بھارت میں چلتی ہوئی بس میں ریپ کا ایک اور واقعہ

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں سخت قوانین لاگو کیے جانے کے باوجود ریپ کے واقعات میں کمی نہیں آئی

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشننامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں سخت قوانین لاگو کیے جانے کے باوجود ریپ کے واقعات میں کمی نہیں آئی

پولیس کا کہنا ہے کہ بھارت کی جنوبی ریاست کرناٹک میں ایک چلتی ہوئی بس میں ایک 19 سالہ خاتون کا ریپ کیا گیا ہے۔

یہ حملہ جمعے کی صبح کو پیش آیا جب متاثرہ خاتون جو ایک نرس ہیں، نے کام پر جانے کے لیے ایک بس پر سواری کی۔

اس بس کے ڈرائیور اور ایک صفائی کرنے والے کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اس حملے کو ایک دیگر ریپ کے واقعے سے ملایا جا رہا ہے جو سنہ 2012 میں دہلی کے شہر میں پیش آیا تھا جہاں ایک چلتی ہوئی بس میں ایک طالبہ کے ساتھ گینگ ریپ کر کے انھیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

حملے کے بعد طالبہ کی ہلاکت کے بعد یہ کیس دنیا بھر میں توجہ کا مرکز بن گیا تھا۔

جمعے کو پیش آنے والا یہ تازہ ترین واقعہ کرناٹک کے دارالحکومت بنگلور سے تقریباً 35 کلو میٹر کے فاصلے پر ’ہوسکوٹ‘ کے علاقے میں پیش آیا تھا۔

بنگلور کے دیہی علاقوں کے پولیس سپرنٹینڈنٹ بی رمیش نے بی بی سی کو بتایا: ’خاتون کی شکایت کے مطابق یہ واقعہ صبح کے ساڑھے سات بجے سے لے کر آٹھ بجے کے درمیان پیش آیا۔ بس پر صرف وہی سوار تھیں۔ ڈرائیور نے بس کا روٹ بدل کر سٹیئرنگ ویل صفائی کرنے والے کے حوالے کر کے خاتون کا ریپ کیا۔‘

مسٹر رمیش نے کہا کہ پولیس کو ریپ کے بارے میں تب پتہ چلا جب نرس نے ہسپتال کے ایک ڈاکٹر کو واقعے کے بارے میں بتایا۔

نامہ نگاروں کے مطابق دہلی میں عوامی مقامات پر جنسی طور پر ہراساں کرنے، زیادتی اور اغوا کے واقعات کی شرح بڑھنے کے باعث خواتین کے لیے مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ بھارت میں سخت قوانین لاگو کیے جانے کے باوجود ریپ کے واقعات میں کمی نہیں آئی۔