ہمارے کہنے کے باوجود بی بی سی نے فلم دکھائی: راج ناتھ سنگھ

وزیر داخلہ کے بیان سے یہ واضح نہیں ہے کہ وہ بی بی سی کے خلاف کارروائی کی بات کر رہے تھے یا فلم ساز لیسلی اڈوِن کے خلاف

،تصویر کا ذریعہpibgovtofindia

،تصویر کا کیپشنوزیر داخلہ کے بیان سے یہ واضح نہیں ہے کہ وہ بی بی سی کے خلاف کارروائی کی بات کر رہے تھے یا فلم ساز لیسلی اڈوِن کے خلاف
    • مصنف, سہیل حلیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کی درخواست کے بعد بی بی سی کو دہلی بس گینگ ریپ کیس پر متنازع دستاویزی فلم نہیں دکھانی چاہیے تھی۔

انھوں نے نامہ نگاروں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم نے کہا تھا کہ یہ فلم نہیں دکھائی جانی چاہیے لیکن بی بی سی نے اسے لندن سے نشر کیا ہے۔ ہمیں آگے کی جو کارروائی کرنی چاہیے وہ وزارت داخلہ کی جانب سی کی جائے گی۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ کیا بی بی سی کے خلاف کارروائی کی جائے گی انھوں نے کہا کہ ’میں اس وقت کچھ کہنا نہیں چاہتا لیکن اگر قواعد کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو یقیناً کارروائی ہوگی۔‘

بی بی سی کا کہنا ہے کہ ’فلم ہماری ادارتی گائیڈ لائنز کے مطابق ہے اور اسے پوری ذمہ داری کے ساتھ بنایا گیا ہے۔ ہم نے کافی غور و خوض کے بعد اسے نشر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس انتہائی طاقتور فلم میں لوگوں کی دلچسپی دیکھتے ہوئے اسے وقت سے پہلے نشر کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔‘

وزیر داخلہ کے بیان سے یہ واضح نہیں ہے کہ وہ بی بی سی کے خلاف کارروائی کی بات کر رہے تھے یا فلم ساز لیسلی اڈوِن کے خلاف کیونکہ فلم بنانے کی اجازت لیسلی اڈوِن نے لی تھی بی بی سی نے نہیں۔

گینگ ریپ کیس پر یہ فلم برطانوی ہدایت کار لیسلی اڈوِن نے بنائی ہے جو بی بی سی اور انڈیا کے این ڈی ٹی وی چینل سمیت کئی ممالک میں آٹھ مارچ کو یوم خواتین کے موقع پر دکھائی جانی تھی۔

بی بی سی نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ’فلم ریپ کا شکار بننے والی لڑکی کے والدین کے تعاون سے بنائی گئی ہے اور اس بہیمانہ واقعہ کو ٹھیک سے سمجھنے میں مدد کرتی ہے، اس واقعہ نے پورے ملک کو ہلا دیا تھا اور ملک کے کئی حصوں میں اس کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے۔۔۔مظاہرین کا یہ ہی کہنا تھا کہ ہندوستان میں خواتین کے تئیں رویہ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔‘

بھارت میں ایک عدالت نے فی الحال اس فلم کی نمائش پر پابندی عائد کر دی ہے اور وزیر داخلہ بھی پارلیمان میں یہ اعلان کر چکے ہیں کہ فلم کی نمائش کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

بھارت میں اس دستاویزی فلم کے نشر کیے جانے پر تنازع اس وقت شروع ہوا جب ایک چینل نے اس کے نشر کرنے کے خلاف مہم کا آغاز کیا

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنبھارت میں اس دستاویزی فلم کے نشر کیے جانے پر تنازع اس وقت شروع ہوا جب ایک چینل نے اس کے نشر کرنے کے خلاف مہم کا آغاز کیا

فلم کے مخالفین کا موقف ہے کہ یہ فلم گینگ ریپ کے ایک مجرم مکیش سنگھ کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے اور انہوں نےخواتین کے لیے نازیبہ زبان استعمال کی ہے جس کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے تھی۔ مکیش سنگھ کو اس کیس میں موت کی سزا سنائی جاچکی ہے۔ انہوں نے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ ریپ کے لیے لڑکوں سے زیادہ لڑکیاں ذمہ دار ہوتی ہیں۔

حکومت نے اس پورے معاملے کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے اور وزیر داخلہ پارلیمان میں یہ اعلان بھی کر چکے ہیں کہ ضابطوں کی جہاں کہیں بھی خلاف ورزی ہوئی ہے اس کی ذمہ داری طے کی جائے گی۔

لیکن اس کے برعکس بہت سے لوگوں کا موقف ہے کہ مکیش سنگھ نے جو کچھ کہا ہے وہ ملک میں بہت سے دوسرے مردوں کی سوچ سے مختلف نہیں ہے اور ضرورت اس نظریے کو بدلنے کی ہے۔

یہ خبر مستقل سرخیوں میں ہے اور جمعرات کو کئی اخبارات نے اپنے اداریوں میں کہا فلم پر پابندی عائد کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اخبار ٹائمز آف انڈیا نے لکھا ہے فلم پر پابندی لگانے کے بجائے ریپ کے مسئلے پر بات ہونی چاہیے کیونکہ جنتا اس مسئلے کو نظرانداز کیا جائے گا اتنا ہی ایسے جرائم کو فروغ ملے گا۔