امتیازی سلوک کے خلاف لڑنے والی سپر ہیروئن

ونگ سٹار ایک عام لڑکی بھی ہیں جو سکول جاتی ہیں اور اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلتی بھی ہیں

،تصویر کا ذریعہTinkle

،تصویر کا کیپشنونگ سٹار ایک عام لڑکی بھی ہیں جو سکول جاتی ہیں اور اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلتی بھی ہیں
    • مصنف, وکاس پانڈے
    • عہدہ, بی بی سی مانیٹرنگ

بھارت میں بچے مقبول ماہانہ میگزین’ٹنکل‘ کے کرداروں کو 35 سال سے بہت شوق سے پڑھتے آ رہے ہیں۔

اس میگزین کے بزدل شکاری ’شکاری شمبھو‘ اور گاؤں کا بھولا ’سوپندی‘ کے کردار آج بھی بچوں اور بڑوں میں بہت مقبول ہیں۔

لیکن اس مشہور میگزین میں خواتین کے زیادہ کردار شامل نہیں ہیں لیکن اب ٹنکل اس روایت کو بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ٹنکل نے حال ہی میں ماپوی کولیم کے نام سے سپر ہیروئن متعارف کرائی ہے۔

ماپوی ایک 13 سالہ لڑکی ہے جس کا تعلق بھارت کی شمال مشرقی ریاست میزورم سے ہے۔

ماپوی ایک تخلص نام ’ونگ سٹار‘ کے تحت جرم کے خلاف لڑتی ہیں

،تصویر کا ذریعہtinkle

،تصویر کا کیپشنماپوی ایک تخلص نام ’ونگ سٹار‘ کے تحت جرم کے خلاف لڑتی ہیں

ماپوی ایک ’ونگ سٹار‘ کے نام سے جرائم کے خلاف لڑتی ہے اور اس مہم میں ان کے سائنسدان والد کی جانب سے فراہم کیےگئے جدید آلات مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

ونگ سٹار ایک نوجوان لڑکی ہونے کے علاوہ حیران کن طور پر ملک کی شمال مشرقی علاقے سے تعلق رکھتی ہے اور یہ خطہ ایسا ہے جہاں سے اکثر امتیازی سلوک اور دقیانوسی کا شکار ہونے کی اطلاعات ملتی رہتی ہیں۔

ٹنکل کامکس کی ایڈیٹر رجانی تھنڈیاتھ نے بی بی سی کو بتایا کہ انھوں نے’جان بوجھ‘ کر ونگ سٹار کا تعلق میزورم سے نہیں رکھا۔

انھوں نے کہا ’میں یہاں پر ہونے والے امتیازی سلوک سے آگاہ ہوں لیکن ہم نے ونگ سٹار اس وجہ سے نہیں بنائی۔ ٹنکل میں ہم سب کے لیے کام کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔ ہم پورے ملک کی نمائندگی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ کردار اس حکمت عملی کی توسیع ہے۔‘

لیکن رجانی تھنڈیاتھ نے کہا کہ اگر ان کی سپیر ہیرو بھارت کے دیگر علاقوں میں بچوں کو ملک کے شمال مشرقی خطے کے بارے میں تعلیم فراہم کرتی ہے تو وہ اس بات سے خوش ہوں گی۔

ونگ سٹار گذشتہ تین برس میں ٹنکل کی جانب سے بنائی گئی تیسری لڑکی سپیر ہیرو ہیں۔

ونگ سٹار ایک نوجوان لڑکی ہونے کے علاوہ حیران کن طور پر ملک کی شمال مشرقی علاقے سے تعلق رکھتی ہے

،تصویر کا ذریعہTinkle

،تصویر کا کیپشنونگ سٹار ایک نوجوان لڑکی ہونے کے علاوہ حیران کن طور پر ملک کی شمال مشرقی علاقے سے تعلق رکھتی ہے

انھوں نے کہا: ’پوری دنیا ایک جنس کی نہیں بنی ہوئی ہے۔ ہماری پریوں کی تمام کہانیاں صرف خواتین کو بچانے کے بارے میں ہوتی ہیں۔ اس لیے ہم نے اس تاثر کو بدلنے کے لیے ٹنکل میں کام کرنا شروع کر دیا اور خواتین کے نقطۂ نظر سے زیادہ کردار متعارف کروائے تاکہ جنسی برابری قائم ہو سکے۔‘

ٹنکل کی پہلی خاتون سپر ہیرو’ عائشہ‘ ہیں جن پر سنہ 2012 میں ایک کامک بنایا گیا۔

ہر بچہ عائشہ کی طرح سوچتا ہے، کہ وہ بھی سپر ہیرو بنے۔

کئی بار کی کوششوں کے بعد عائشہ کو احساس ہوتا ہے کہ بُرے لوگوں کو شکست دینے کے لیے ان کے پاس کوئی غیر معمولی طاقت نہیں ہے۔

لیکن جلد ہی وہ اپنا ’گروپ‘ بناتی ہیں اور اس میں شامل افراد اکٹھے ہو کر ’سوپر ہیرو کے مشنز کو ایک مزاحیہ موڑ‘ دیتے ہیں۔

ٹنکل کی تیسری سپر ہیرو مایا کا آغاز گذشتہ سال ہوا تھا۔

مایا ایک جادو بھری دنیا میں رہتی ہیں اور اپنے والد کو ڈھونڈنے کے لیے نکلتی ہیں۔

ان کی سپر پاور انھیں’سائی‘ نامی ایک روبوٹک فالکن فراہم کرتی ہے۔

رجانی تھنڈیاتھ کا کہنا ہے کہ بچے ہدایات کے بجائے تجاویز زیادہ سمجھتے ہیں۔

انھوں نے کہا ’ہم چھوٹی چھوٹی چیزیں دکھاتے ہیں جیسا کہ مردوں کو گھر کے کام کرتے ہوئے دکھانا، اور امید کرتے ہیں کہ ایسے خیالات بچوں کو اس بات سے آگاہ کریں گے کہ دنیا مردوں اور خواتین دونوں کے لیے برابر کا مقام ہے۔‘