’آرٹسٹ کی فیس تو اس کی مقبولیت پر منحصر ہوتی ہے‘

 اگر پروڈیوسر آپ کے نام سے اتنا پیسہ کما سکتے ہیں تو انھیں آپ کی فیس بڑھانے میں کوئی تکلیف نہیں ہوگی: سلمان خان

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن اگر پروڈیوسر آپ کے نام سے اتنا پیسہ کما سکتے ہیں تو انھیں آپ کی فیس بڑھانے میں کوئی تکلیف نہیں ہوگی: سلمان خان

بالی وڈ کے سب سے زیادہ مہنگے ہیروز میں سے ایک سلمان خان کے خیال میں ضروری ہے کہ اداکاراؤں کو بھی اداکار کے برابر معاوضہ دیا جائے بشرطیکہ وہ فلمساز کو منافع کما کر دیں۔

بھارتی فلمی صنعت میں اداکاروں کے مقابلے اداکاراؤں کو ملنے والے کم معاوضے پر اکثر بحث ہوتی ہے۔

حال ہی میں فلم ’ہیرو‘ سے پروڈکشن کی دنیا میں قدم رکھنے والے سلمان خان بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

اداکاروں کو زیادہ پیسہ دیے جانے کے حق میں بات کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس کا تعلق فلم ساز کو ہونے والے منافع سے ہے لیکن اس منافع کا حصہ ہیرو کو زیادہ اور ہیروئن کو کم کیوں دیا جاتا ہے؟

سلمان کہتے ہیں، ’دیکھیے بطور پروڈیوسر میں کہہ سکتا ہوں کہ ہمیں کبھی اداکاراؤں کو اضافی فیس دینے میں تکلیف نہیں ہوتی، بشرطیکہ فلم سازوں کو بھی اتنا ہی منافع ہو۔‘

حال ہی میں اداکارہ تبو نے اپنی فلم ’درشيم‘ کی تشہیر کے دوران کہا تھا، ’فلم جس نام سے چلتی ہے اسے ہی زیادہ پیسہ ملنا چاہیے اور بالی ووڈ میں یہ نام ہیرو کا ہوتا ہے۔‘

لیکن ایسا نہیں ہے کہ ہر کوئی اس نظام سے خوش ہو۔

بالی وڈ کی مقبول اداکارہ کنگنا رناوت شاہ رخ، سلمان یا عامر خان کے ساتھ کام کرنے کے لیے اسی لیے ہاں نہیں کر رہیں، کیونکہ وہ مانتی ہیں کہ انہیں اداکاروں سے زیادہ پیسے نہ ملے، کم سے کم برابر کا معاوضہ تو ملنا چاہیے۔

گزشتہ چند برسوں سے خواتین پر مبنی فلمیں جیسے کہ کہانی، مردانی، کوئین اور میری کوم کے مقبول ہونے کے بعد فلم انڈسٹری میں یہ سوال اٹھا تھا کہ اداکاراؤں کو بھی اداکاروں کے برابر فیس دینا ضروری ہے، لیکن ایسا ہوا نہیں۔

اور جب نئے نئے پروڈیوسر بنے سلمان خان سے یہ سوال پوچھا گیا تو وہ بولے، ’ایک آرٹسٹ کی فیس اس کی مقبولیت پر منحصر ہے۔ اگر پروڈیوسر آپ کے نام سے اتنا پیسہ کما سکتے ہیں تو انھیں آپ کی فیس بڑھانے میں کوئی تکلیف نہیں ہوگی، شاید یہ سب کچھ واضح کر دیتا ہے۔‘