جنسی زیادتی کے مجرم اوبر ٹیکسی ڈرائیور کو عمرقید

عدالت نے مجرم شیو کمار یادو کو خاتون کو اغوا کرنے اور ریپ کرتے وقت ان کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کا مجرم قراد دیا تھا

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعدالت نے مجرم شیو کمار یادو کو خاتون کو اغوا کرنے اور ریپ کرتے وقت ان کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کا مجرم قراد دیا تھا

دہلی کی ایک عدالت نے گذشتہ برس دسمبر میں اوبر سروس کی ٹیکسی میں خاتون مسافر سے جنسی زیادتی کرنے والے ٹیکسی ڈرائیور کو عمرقید کی سزا سنائی ہے۔

عدالت نے مجرم شیو کمار یادو کو خاتون کے اغوا، ریپ اور ان کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات پر گذشتہ سماعت پر قصوروار قرار دیا تھا۔

یہ واقعہ پانچ دسمبر 2014 کو پیش آیا تھا جب 26 سالہ متاثرہ خاتون نے گڑگاؤں سے دہلی کے علاقے اندرلوك کے لیے ٹیکسی بک کی تھی۔

جب وہ راستے میں تھیں تو ڈرائیور نے کار ایک سنسان جگہ پر روک کر انھیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

اس واقعے کے بعد کے بعد حکومت نے اوبر سمیت کئی ویب بیسٹڈ ٹیکسی سروسز پر عارضی طور پر پابندی بھی عائد کر دی تھی اور کہا تھا کہ وہ اپنے ڈرائیورز کی جانچ پڑتال میں غفلت کی مرتکب ہوئی ہیں۔

سوشل میڈیا پر اس واقعے کے بارے میں شدید رد عمل ظاہر کیا گیا تھا اور اس کے بعد ایک بار پھر بھارتی دارالحکومت میں خواتین کے تحفظ کے مسئلے کے بارے میں سوال اٹھائے گئے تھے۔

خیال رہے کہ تین سال قبل دہلی کی ایک چلتی بس میں ایک طالبہ کے ساتھ اجتماعی ریپ کے معاملے کے بعد سے بھارت میں جنسی زیادتی کے مجرموں کو سخت سزائیں دینے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔

اس سلسلے میں نئے قوانین بھی لائے گئے ہیں جس کے بعد اب جنسی زیادتی کے مجرموں کو عمر قید تک کہ سزا ہو سکتی ہے۔