دہلی:’اوبر‘ ٹیکسی سروس نے دوبارہ کام شروع کر دیا

اوبر نے ریڈیو ٹیکسی سروس کے لائسنس کے لیے درخواست بھی دے دی ہے
،تصویر کا کیپشناوبر نے ریڈیو ٹیکسی سروس کے لائسنس کے لیے درخواست بھی دے دی ہے

انٹرنیٹ اور موبائل فون ایپلیکیشن کے ذریعے ٹیکسی کی بکنگ کی امریکی سروس ’اُوبر‘ نے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔

گذشتہ ماہ اس ٹیکسی سروس کے ایک ڈرائیور پر ایک خاتون مسافر کے ریپ کا الزام لگنے کے بعد دہلی کے محکمۂ ٹرانسپورٹ نے اس کمپنی پر پابندی عائد کر دی تھی۔

بھارت میں تیزی سے مقبول ہوتی ہوئی اُوبر سروس پر یہ بھی الزام تھا کہ وہ اپنے ڈرائیوروں کے بارے میں ضروری معلومات رکھنے میں ناکام رہی ہے۔

اوبر نے دعوی کیا ہے کہ اس نے اب صرف انھی ڈرائیوروں کو اپنے بیڑے میں شامل کیا ہے جنھوں نے گزشتہ چھ ہفتے کے اندر پولیس سے کلیئرنس لے لی ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے ان ڈرائیوروں کی منصفانہ تحقیقات بھی کروائی ہیں اس کے علاوہ ان کے کاغذات کی جانچ پڑتال بھی کروائی گئی ہے۔

 بھارتی پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا تھا اور یہ مقدمہ فی الحال جاری ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن بھارتی پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا تھا اور یہ مقدمہ فی الحال جاری ہے۔

اوبر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ریڈیو ٹیکسی سروس کے لائسنس کے لیے درخواست بھی دے دی ہے۔

اس کمپنی پر ٹیکسی سروس سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کے الزام لگے تھے لیکن اوبر نے ان الزامات سے انکار کیا تھا۔

ریپ کے معاملے میں 26 سالہ متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ انھوں نے موبائل ایپ کے ذریعے ٹیکسی بک کی تھی، لیکن ڈرائیور انھیں ایک سنسان جگہ پر لے گیا اور وہاں انھیں ریپ کیا گیا۔

بھارتی پولیس نے ملزم کو گرفتار کر لیا تھا اور یہ مقدمہ فی الحال جاری ہے۔