دہلی میں ’اوبر ٹیکسی سروس‘ پر پابندی عائد

،تصویر کا ذریعہAFP
دہلی کی انتظامیہ نے ٹیکسی کی بکنگ کی بین الاقوامی سروس ’اُوبر‘ پر پابندی لگا دی ہے۔ یہ پابندی اس ٹیکسی سروس کے ایک ڈرائیور پر ایک خاتون مسافر کے ساتھ ریپ کا الزام لگنے کے بعد لگائی گئی ہے۔
اس معاملے پر لوگ بہت مشتعل ہیں اور پیر کو عام آدمی پارٹی کے کارکنوں نے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے رہائش گاہ کے باہر مظاہرہ کیا۔
26 سالہ متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ انھوں نے موبائل ایپ کے ذریعے ٹیکسی بک کی تھی، لیکن ڈرائیور انھیں ایک سنسان جگہ پر لے گیا اور وہاں اس کا ریپ کیا گیا۔ پولیس نے ملزم کو جمعے کو گرفتار کر لیا تھا جسے پیر کو عدالت میں پیش کیا گیا۔
بھارت میں تیزی سے مقبول ہوتی ہوئی اُوبر سروس پر الزام ہے کہ وہ ڈرائیوروں کے بارے میں ضروری معلومات رکھنے میں ناکام رہی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے سرکاری بیان کے حوالے سے لکھا ہے کہ ’محمکہ ٹرانسپورٹ نے www.Uber.com کے تحت کسی بھی قسم کی ٹرانسپورٹ سروس یا سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔
حکام کے مطابق اس پابندی کا مطلب ہے کہ دہلی میں اُوبر ٹیکسی پر نہ صرف جرمانہ عائد ہو سکتا ہے بلکہ اسے بند بھی کیا جا سکتا ہے۔
پابندی عائد کیے جانے سے قبل اُوبر نے اس واقعے کو خوفناک قرار دیا اور کہا کہ وہ ذمہ دار شخص کو انصاف کے کٹہرے تک لانے کے لیے ہر ممکن تعاون کرے گی۔
کمپنی نے یہ بھی کہا تھا کہ اس کی پوری ہمدردیاں متاثرہ خاتون اور اس کے خاندان کے ساتھ ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAP







