’درخت سے لٹکی لڑکیوں نے خودکشی کی تھی‘

نچلی ذات سے یہ تعلق رکھنے والی دونوں لڑکیوں کی عمریں 14 سے 15 سال بتائی جاتی ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشننچلی ذات سے یہ تعلق رکھنے والی دونوں لڑکیوں کی عمریں 14 سے 15 سال بتائی جاتی ہیں

بھارت میں وفاقی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ اس سال مئی میں ایک درخت سے لٹکی ہوئی پائے جانے والی دو نوجوان لڑکیوں نے خودکشی کی تھی اور انھیں گینگ ریپ اور قتل نہیں کیا گیا تھا۔

اس واقعے پر عالمی پیمانے پر احتجاج ہوا تھا جس کے بعد بھارت کے مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی نے تفتیش شروع کی تھی۔

بھارت کی شمالی ریاست اترپردیش میں اس کیس کے سلسلے میں گرفتار تین افراد کو ستمبر میں ضمانت پر رہا کیا گیا تھا۔

یہ اب تک واضح نہیں ہو سکا کہ لڑکیوں نے خودکشی کیوں کی۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس کیس میں کئی سوال ایسے ہیں جن کے جواب نہیں دیے گئے۔

خواتین کے حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ اس تازہ پیش رفت پر خوش نہیں ہیں اور انھوں نے سی بی آئی پر زور دیا ہے کہ وہ تحقیقات جاری رکھے۔

نچلی ذات سے تعلق رکھنے والی ان لڑکیوں کی عمریں 14 سے 15 سال بتائی جاتی ہیں۔ دونوں 28 مئی کو ضلع بدایوں میں ایک آم کے درخت سے لٹکی ہوئی ملی تھیں۔

اپنے گھر میں لیٹرین نہ ہونے کی وجہ سے دونوں رات کو باہر گئیں اور پھر لاپتہ ہو گئیں۔

مقامی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے ابتدائی طور پر تصدیق کی تھی کہ لڑکیوں کو کئی بار ریپ کیا گیا تھا اور اُن کی موت پھانسی کی وجہ سے ہوئی تھی۔

لیکن سی بی آئی کا کہنا ہے کہ فورینسک ٹیسٹ کرنے کے بعد پتہ چلا ہے کہ لڑکیوں کو ریپ نہیں کیا گیا تھا۔

سی بی آئی کے ترجمان کانچن پرساد نے کہا: ’تحقیقات کے بعد پتہ چلا ہے کہ یہ خودکشی کا معاملہ ہے۔‘

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس پھانسی کی تفصیل کی کہانی روز بروز مشکوک تر ہوتی جا رہی ہے کیونکہ تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ متاثرین کے اہل خانہ جھوٹ کا پتہ لگانے والے ٹیسٹ میں ناکام ہو گئے تھے۔

تفتیش کاروں نے یہ بھی کہا کہ انھیں اس کیس سے منسلک ایک اہم گواہ پر شک ہے کہ اسے لڑکیوں کے گھر والوں نے پیسے دے کر بیان تبدیل کروایا ہے۔

یہ بھی واضح ہو گیا ہے سی بی آئی مقامی پولیس کی تفتیش پر یقین نہیں کر رہی تھی۔

گذشتہ ستمبر میں ایک عدالت نے تین ملزمان کو اس وقت ضمانت پر رہا کر دیا تھا جب وفاقی تفتیش کاروں نے ان پر الزامات لگانے سے انکار کر دیا کیونکہ ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا۔

ملزموں کے ساتھ ساتھ دو کانسٹیبلوں کو بھی گرفتار کیا گیا تھا اور ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انھوں نے لڑکیوں کے والدین کی شکایت سنجیدگی سے نہیں لی اور اپنے فرائض سرانجام نہیں دیے۔ انھیں بھی ستمبر میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔

وفاقی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ حیدرآباد میں موجود فورینسک لیب میں لڑکیوں کے کپڑوں اور دیگر ذاتی اشیا کا معائنہ کروانے کے بعد انھیں ریپ کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔