بھارت: ایک اور لڑکی کی لاش درخت سے لٹکی ہوئی ملی

،تصویر کا ذریعہReuters
بھارتی ریاست اتر پردیش میں ایک 19 سالہ لڑکی کی لاش ایک گاؤں میں درخت سے لٹکی ملی ہے جو کہ گذشتہ چند ہفتوں میں تیسرا ایسا واقعہ ہے۔
یہ لاش مراد آباد کے علاقے میں ملی ہے جو کہ دارالحکومت دہلی سے بذریعہ کار تین گھنٹے کی مسافت پر ہے۔
بہرایچ کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ہیپی گپتن نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس عورت کی عمر 44 سال کے لگ بھگ ہے اور اس کا تعلق قریبی گاؤں سے تھا۔
گپتن نے کہا کہ اس عورت کو مقامی لوگوں نے پہلے شراب بیچنے پر متنبہ کیا تھا۔
پولیس افسر کا کہنا ہے کہ اس عورت کے خاندان نے پانچ افراد کے خلاف رپورٹ درج کرائی ہے۔
بدھ کے روز بھی ایک خاتون کی لاش ریاست اترپردیش میں درخت سے لٹکی ہوئی ملی تھی۔
اس واقعے سے چند ہفتے قبل اسی ریاست میں دو نوجوان لڑکیوں کو گینگ ریپ کیا گیا اور ان کی لاشیں درخت سے لٹکی ملی تھیں۔ اس واقعے کے بعد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔
حالیہ دنوں میں اترپردیش میں خواتین کے خلاف جرائم کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جس سے ریاست کی حکومت پر تنقید کی جا رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دہلی سے بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو نارتھ کا کہنا تھا کہ اترپردیش بیس کروڑ آبادی کی ریاست ہے اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی ’ناکام ریاست‘ ہے۔
بھارت کے نئے وزیراعظم نریندر مودی کا کہنا ہے کہ خواتین کا تحفظ ان کی حکومت کی ترجیح ہوگی۔
2012 میں دہلی کی ایک بس میں ایک نوجوان لڑکی کے ساتھ گینگ ریپ کے بعد ملک بھر میں جنسی تشدد کے خلاف شدید مظاہرے ہوئے جن کے نتیجے میں حکومت نے اس حوالے سے سخت تر قوانین بنائے۔







