بیٹی کی پیدائش پر دس درخت لگائے جاتے ہیں

دھرہرا گاؤں بہار کے اہم شہر بھاگلپور سے تقریباً 25 کلومیٹر دور ہے

،تصویر کا ذریعہMANISH SAANDILYA

،تصویر کا کیپشندھرہرا گاؤں بہار کے اہم شہر بھاگلپور سے تقریباً 25 کلومیٹر دور ہے

بھارت کی ریاست بہار سے ہو کر گزرنے والی نیشنل ہائی وے 31 پر تينٹگا جانے والے راستے پر تقریباً چار کلو میٹر آگے بڑھیں تو ایک سائن بورڈ ملتا ہے۔ اس پر لکھا ہے: ’ایک مشہور مثالی گاؤں دھرہرا میں خوش آمدید۔‘ یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ یہ گاؤں مشہور ہے یا نہیں لیکن اتنا ضرور ہے کہ یہ گذشتہ تین چار سال سے زیرِ بحث ہے۔

اور اس کی وجہ دھرہرا کی وہ خاص روایت ہے جس کے تحت اس گاؤں میں بیٹیوں کی پیدائش پر کم سے کم دس درخت لگانے کی روایت ہے۔

دھرہرا گاؤں بہار کے اہم شہر بھاگلپور سے تقریباً 25 کلو میٹر دور ہے۔ صحت مرکز کے ریکارڈ سے پتہ چلا کہ گاؤں میں جس آخری بچی کی پیدائش ہوئی ہے، اس کے ماں باپ کنچن دیوی اور بہادر سنگھ ہیں۔

اس جوڑے نے بتایا کہ اپنی چار ماہ کی بیٹی سوات کے نام پر انھوں نے ایک درخت گھر کے آنگن میں لگایا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ اپنے بڑی بیٹی کے نام پر پورے دس درخت لگا چکے ہیں۔

گاؤں کے رہائشی شنکر دیال سنگھ کہتے ہیں: ’ہمارے باپ دادا کے وقت آس پاس کے گاؤں میں بیٹیوں کو اکثر ان کی پیدائش پر ہی مار دیا جاتا تھا۔ اس کی ایک بڑی وجہ جہیز کا خرچ تھا۔‘

شنکر دیال کے مطابق: ’ایسے میں ان کے گاؤں کے بزرگوں نے یہ راستہ نکالا کہ بیٹی کا استقبال تو کیا جائے گا لیکن اس کی نگہداشت، تعلیم اور جہیز کا خرچ حاصل کرنے کے لیے اس کی پیدائش کے وقت پھل دار درخت لگائے جائیں۔‘

2010 میں پہلی بار ایک مقامی اخبار کے ذریعے اس روایت کی خبر عام ہوئی۔

اس کے بعد بہار کے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اس گاؤں کی روایت کی تعریف کی اور اسے پوری ریاست میں اپنانے کی اپیل کی۔ تب سے یہ گاؤں زیرِ بحث ہے۔

2010 سے 2013 کے درمیان بطور وزیر اعلیٰ نتیش ہر سال ماحولیات کے دن کے اردگرد یہاں آ کر ایک بچی کے نام پر ایک پودہ بھی لگاتے رہے۔

گاؤں والوں کا کہنا تھا اپنی دہائیوں پرانی منفرد روایت کے باعث ان کا گاؤں ہمیشہ مثالی گاؤں رہے گا

،تصویر کا ذریعہMANISH SAANDILYA

،تصویر کا کیپشنگاؤں والوں کا کہنا تھا اپنی دہائیوں پرانی منفرد روایت کے باعث ان کا گاؤں ہمیشہ مثالی گاؤں رہے گا

اس گاؤں کے ایک کسان راکیش رمن کہتے ہیں: ’ماحولیاتی تحفظ اور جنین قتل کے روک تھام جیسی باتیں ہم نے سنی تھیں، لیکن ہمیں گمان بھی نہیں تھا کہ ہمارا کم خرچ طریقہ اس معاملے میں اتنا متاثر کن ثابت ہوگا۔‘

گاؤں میں ’امید‘ کے طور پر کام کرنے والی نیلم سنگھ بتاتی ہیں کہ اس روایت نے ہی انھیں ایک لاوارث بچی کو اپنانے کا حوصلہ دیا۔ وہ کہتی ہیں کہ دھرہرا کے لیے بیٹی وراثت ہے۔

لیکن علاقے کے بے زمین باسیوں کا الگ ہی درد ہے۔ مزدور وچندیو داس کہتے ہیں: ’میرے پاس رہنے کے علاوہ زمین نہیں ہے۔ میں نے اپنی دونوں بیٹیوں کی پیدائش کے بعد گاؤں کی ٹھاكر باڑي میں درخت لگا کر گاؤں کی ریت نبھائی۔‘

وچندیو جیسے لوگ ریت تو نبھا لیتے ہیں، لیکن عوامی مقام میں درخت لگانے کی وجہ سے ان درختوں سے انھیں بیٹی کی نگہداشت میں کوئی مدد نہیں ملتی۔

پرنس پاسوان بتاتے ہیں کہ باغ کے لیے زمین نہ ہونے کی وجہ سے انھوں نے گھر کے صحن ہی میں درخت لگا کر اس روایت کو نبھایا۔

بحث میں آنے کے بعد انتظامیہ نے اس گاؤں کو ایک مثالی گاؤں قرار دیا ہے لیکن گاؤں والوں کی عام شکایت ہے کہ سڑک بننے اور تعلیم، صحت اور بجلی میں معمولی بہتری کے علاوہ گاؤں کو اب تک کچھ زیادہ نہیں ملا ہے۔

2010 سے 2013 کے درمیان بطور وزیر اعلیٰ نتیش ہر سال ماحولیات کے دن کے ارد گرد یہاں آ کر ایک بچی کے نام پر پودا بھی لگاتے رہے

،تصویر کا ذریعہMANISH SAANDILYA

،تصویر کا کیپشن2010 سے 2013 کے درمیان بطور وزیر اعلیٰ نتیش ہر سال ماحولیات کے دن کے ارد گرد یہاں آ کر ایک بچی کے نام پر پودا بھی لگاتے رہے

ان کے مطابق ہسپتال، پانی کی ٹینکی کی تعمیر اور گاؤں کو نرمل گرام بنانے جیسے اعلانات کو پورا کرنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں ہوئے۔

گذشتہ سال نتیش کمار نے رانی کماری نام کی بچی کے نام پر پودا لگایا تھا۔ رانی کی اس سال اسہال سے موت ہو گئی۔ رانی کی دادی متو دیوی الزام لگاتی ہیں کہ مثالی گاؤں ہونے کے باوجود سرکاری صحت مرکز پر رات میں ہنگامی طبی امداد دستیاب نہیں تھی جس کی وجہ سے رانی کی موت ہو گئی۔

ان ادھورے وعدوں کی وجہ دھرہرا کے دیہاتیوں میں قدرتی طور پر ناراضی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ خصوصیات کے معاملے میں ہم شاید مثالی گاؤں نہ بھی بنیں لیکن اپنی دہائیوں پرانی منفرد روایت کے طور پر ہمارا گاؤں ہمیشہ مثالی گاؤں رہے گا۔