گھر میں بیت الخلا نہ ہونے سے طلاق

سلبھ انٹرنیشنل ملک گیر پیمانے پر بیت الخلا کی تعمیر کے شعبے میں سرگرم ہے

،تصویر کا ذریعہsulabh

،تصویر کا کیپشنسلبھ انٹرنیشنل ملک گیر پیمانے پر بیت الخلا کی تعمیر کے شعبے میں سرگرم ہے
    • مصنف, منیش شانڈلیہ
    • عہدہ, بی بی سی کے لیے پٹنہ سے

بھارتی ریاست اتر پردیش کے بدایوں ضلعے میں بدھ کی شام دو چچازاد بہنوں کے ساتھ اجتماعی ریپ کے بعد ان کے قتل نے بہت سے سوالات اٹھائے ہیں جن میں بیت الخلا سب سے اہم ہے۔

کیونکہ دونوں بہنیں رفع حاجت کے لیے گھر کے پاس کے کھیت میں گئی تھیں جہاں ان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا۔

اس واقعے نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ بیت الخلا کس طرح خواتین کے تحفظ اور احترام سے منسلک ہے۔ بھارت میں، بطور خاص دیہی علاقوں میں اگر ہر گھر میں آج بھی بیت الخلا نہیں ہے تو اس کی ایک نہیں کئی وجوہات ہیں۔ سماجی مبصرین کا کہنا ہے کہ غربت اور زمین کی محرومی اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔

یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بیت الخلا کی تعمیر کے لیے چلائی جانے والی سرکاری سکیموں پر ایمانداری سے عمل نہیں ہو رہا ہے جبکہ دیہی علاقوں میں بیت الخلا بنانا اب بھی وہاں کے لوگوں کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔

بہر حال بیت الخلا کی کمی کے سبب ہونے والی پریشانیوں اور شرمندگی کے احساس کے تحت ملک کے مختلف حصوں میں خواتین گھر کے اندر ہی آواز اٹھا رہی ہیں اور ان کی جرات مندانہ اقدام سے نہ صرف ان کی زندگیاں بہتر ہو رہی ہیں بلکہ سماج میں دوسرے لوگوں کو بھی ہمت مل رہی ہے۔

گذشتہ ماہ بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں ایک منفرد معاملہ سامنے آیا۔ پٹنہ کے عدالت گنج علاقے میں رہنے والی پاروتی نے خواتین ہیلپ لائن میں طلاق کے متعلق درخواست دی۔

انھوں نے اپنے سسرال میں بیت الخلا نہیں ہونے کی وجہ سے ہونے والی روزمرہ کی پریشانیوں سے تنگ آکر ایسا کیا تھا۔

اس نادر معاملے کے سامنے آنے پر اس شعبے میں ملک گیر پیمانے پر اہم خدمات انجام دینے والے ادارے سلبھ انٹرنیشنل نے پاروتی کے حوصلے کی تعریف کرتے ہوئے پاروتی کے سسرال میں بیت الخلا بنانے اور ان کی عزت ا‌فزائی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

سلبھ انٹرنیشنل نے اعلان کے مطابق 30 مئی کو پاروتی اور اس کے سسرال والوں کو ایک تیار شدہ بیت الخلا تحفے میں دیا۔ اور 31 مئی کو پٹنہ میں پاروتی کو ’سلبھ صفائی اعزاز‘ سے نوازا گیا۔ اعزاز کے ساتھ پاروتی کو ڈیڑھ لاکھ روپے کا انعام بھی دیا گيا۔

پرینکا رائے ان خواتین میں شامل ہیں جنھوں نے بیت الخلا کی کمی کے سبب اپنا سسرال چھوڑ دیا تھا
،تصویر کا کیپشنپرینکا رائے ان خواتین میں شامل ہیں جنھوں نے بیت الخلا کی کمی کے سبب اپنا سسرال چھوڑ دیا تھا

بی بی سی نے پاروتی سمیت ایسی تین خواتین سے بات کی جنھوں نے اپنے اپنے سسرال میں بیت الخلا کے لیے آواز بلند کی اور آج سلبھ کے ساتھ مل کر ملک کے طول عرض میں بیت الخلا کے متعلق بیداری پھیلانے کا کام کر رہی ہیں۔

یہیں ایسی خواتین بھی تھیں جنھوں نے کمیونٹی ٹوائلٹ کے لیے زمین وقف کی ہے۔

اتر پردیش کے کشی نگر ضلع کے بھینساہا گاؤں میں پرینکا رائے کی شادی اپریل سنہ 2012 میں ہوئی تھی۔ سسرال میں بیت الخلا نہیں تھا۔ پانچ چھ دن بعد ہی انھوں نے اپنے شوہر سے بیت الخلا بنانے کے لیے کہا۔

پرینکا کہتی ہیں کہ انھوں نے ایک ماہ تک انتظار کیا لیکن جب بیت الخلا بننا شروع نہیں ہوا تو وہ جھگڑ کر اپنے میکے چلی آئیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے اس قدم سے گاؤں میں ہلچل سی مچ گئی اور پھر میڈیا کے ذریعے بات سلبھ تک پہنچی۔ اس کے بعد سلبھ کی طرف سے ان کے سسرال میں بیت الخلا بنایا گيا۔

پرینکا بتاتی ہیں کہ ان کے ’میکے میں بھی بیت الخلا نہیں تھا۔ پریشانی وہاں بھی تھی۔ سرکاری سکیموں کا فائدہ نہیں مل پایا تو بیت الخلا نہیں بنا۔ لیکن سسرال میں دلہن کے لیے کھیت میں رفع حاجت کے لیے کئی قسم کی پریشانیاں پیدا کرتا تھا۔‘

پرینکا آج وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہیں اور اس بہانے ملک اور بیرون ملک جا رہی ہیں۔ ان کو ہوائی جہاز سے سفر کا بھی موقع ملا ہے جس کے بارے میں بتانا وہ کبھی نہیں بھولتيں۔

پاروتی دیوی کی شادی پٹنہ کے بہٹا ڈویژن کے سديشوپور گاؤں میں ہوئی۔ شادی کے وقت انھیں یقین دلایا گیا تھا کہ سسرال میں بیت الخلا جلد ہی بن جائے گا۔ ایک سال سے زيادہ کی مدت گزر گئی لیکن ایسا نہیں ہوا۔

اس درمیان سسرال میں نئے گھر بنانے کا کام تو شروع ہوا لیکن بیت الخلا بنانے کی ان کی بات نہیں مانی گئی۔ اسی درمیان معدے کی بیماری کی وجہ سے ان کی پریشانی بڑھ گئی۔

دن میں کھیتوں میں بیت الخلا جاتے وقت لڑکے پھبتیاں کستے تھے۔ پھر تنگ آکر پاروتی نے سسرال چھوڑ دیا۔ اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ پرینکا سے مختلف نہیں۔

منو رانی نے بیت الخلا کے اپنی زمین عطیے میں دی جہاں گاؤں کا پہلا عارضی بیت الخلا تعمیر ہوا
،تصویر کا کیپشنمنو رانی نے بیت الخلا کے اپنی زمین عطیے میں دی جہاں گاؤں کا پہلا عارضی بیت الخلا تعمیر ہوا

بالی وڈ کی معروف اداکارہ ودیا بالن بیت الخلا سے متعلق ایک بیداری مہم کے اشتہار میں ایک پوسٹ آفس میں ایک خاتون کا تعارف کراتے ہوئے بتاتی ہے کہ ’دیکھیے یہ ہیں پرینکا بھارتی جنھوں نےبیت الخلا نہیں ہونے کی وجہ سے سسرال چھوڑ دیا تھا۔‘

وہی پرینکا اپنے بارے میں بتاتی ہیں کہ ’شادی سے پہلے میں کم از کم گھر میں کچّا بیت الخلا تو تھا لیکن سسرال میں وہ بھی نہیں تھا۔‘ سنہ 2007 میں ان کی شادی ہوئی لیکن رخصتی سنہ 2013 میں ہوئی اور وہ سسرال پہنچیں۔

روزانہ کی شرمندگی سے بچنے کے لیے انھوں نے پہلے دن سے ہی شوہر سے لے کر گھر کے تمام بڑے بزرگوں سے بیت الخلا بنانے کی بات کہی۔ لیکن کسی نے ان کی بات نہیں سنی تو چار دن بعد ہی میکے والوں کے ساتھ وہ اپنے گھر واپس چلی آئیں۔

پھر گاؤں میں بات پھیلی اور میڈیا میں بات آئی۔ شروعات میں میکے والوں نے بھی ان کے فیصلے پر ناراضگی ظاہر کی لیکن آج پرینکا اپنے اس حوصلے کی وجہ سے ہی اپنے پیروں پر کھڑی ہیں اور آج بی اے بھی کر رہی ہیں۔ تعلیم کو وہ خاندان کے تحفظ اور وقار کے لیے ضروری مانتی ہیں۔

ملک گیر پیمانے پر حکومت کی جانب سے اس سمت میں کئی قدم اٹھائے گئے ہیں لیکن ابھی تک ان کا فائدہ تمام طبقوں تک نہیں پہنچ سکا ہے

،تصویر کا ذریعہAtul Chandra BBC

،تصویر کا کیپشنملک گیر پیمانے پر حکومت کی جانب سے اس سمت میں کئی قدم اٹھائے گئے ہیں لیکن ابھی تک ان کا فائدہ تمام طبقوں تک نہیں پہنچ سکا ہے

اتر پردیش کے بہرائچ ضلعے کے بھواني پور گاؤں کی منوراني یادو نے گاؤں میں کمیونٹی ٹوائلٹ بنانے کے لیے زمین عطیہ میں دی۔

واقعہ یہ تھا کہ ایک وزیر کی قیادت میں جب افسران گاؤں میں کمیونٹی ٹوائلٹ کے لیے زمین لینے آئے تو کوئی زمین دینے کے لیے تیار نہیں ہوا۔

ایسے میں حکام گاؤں سے بیت الخلا کی تعمیر کا منصوبہ واپس لے جانا چاہتے تھے۔ یہ بات جب منوراني کو پتہ چلی تو انھوں نے اپنی زمین دینے کا فیصلہ کیا۔ ان کی جانب سے وقف کی جانے والی تقریباً 1400 مربع فیٹ زمین پر ابھی چھ کمیونٹی ٹوائلٹ ہیں۔

تقریباً 100 گھروں والے بھواني پور گاؤں میں بننے والے یہ بیت الخلا پہلے ہیں جو کہ پلائی لکڑی کے عارضی بیت الخلا ہیں۔