بدایوں:’لڑکیوں سے ریپ کے ثبوت نہیں ملے‘

بھارت میں وفاقی تحقیقاتی ادارے سی بی آئی کا کہنا ہے کہ ریاست اترپردیش میں درخت سے لٹکی پائی جانے والی دو چچا زاد بہنوں سے جنسی زیادتی کے ثبوت نہیں ملے ہیں۔
تاہم ان دونوں میں سے ایک لڑکی کے والد نے اس فارینزک رپورٹ کو مسترد کر دیا ہے۔
ہلاک ہونے والی دونوں لڑکیاں نچلی ذات کی تھیں اور انھیں اترپردیش کے بدایوں ضلعے میں ایک درخت سے لٹکا پایا گیا تھا، جس پر پوری دنیا میں غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔
اس واقعے کے بعد تین مشتبہ حملہ آوروں اور دو پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔
اس وقت ایک مقامی پوسٹ مارٹم سے متعدد جنسی زیادتیوں اور پھانسی کے ذریعے موت کی تصدیق ہوئی تھی۔
شروع میں ریاستی پولیس اس مقدمے کی تحقیقات کر رہی تھی لیکن بعد میں اس معاملے کو مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی کو سونپ دیا گيا۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ سی بی آئی حالیہ فورینزک تفتیش اور اس سے پہلے کی جانے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں پائے جانے والے تضادات کو حل کر سکے گی۔
بھارت میں گذشتہ مہینے سی بی آئی نے ان لڑکیوں کی قبریں کھود کر لاشیں نکالنے کی کوشش کی تھی تاہم اس دن سیلابی پانی کی وجہ سے ان قبروں تک رسائی نہیں ہو سکی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سی بی آئی کے ترجمان نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ بھارت کے سینٹر برائے ڈی این اے فنگر پرنٹنگ اور ڈائگناسٹکس (سی ڈی ایف ڈی) ان لڑکیوں کے لباس کو جانچنے میں کامیاب رہا جس کے بعد اس نے رپورٹ دی کہ ان لڑکیوں پر جنسی حملے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
سی بی آئی نے اس حوالے سے مزید تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا تاہم میڈیا نے سی ڈی ایف ڈی کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ان لڑکیوں کے پاس سے کسی مرد کا ڈی این اے نہیں ملا۔
تاہم ایک لڑکی کے والد سوہن لال کا کہنا ہے کہ ’ہمیں یہ تک نہیں پتہ کہ لیب میں جو نمونے بھیجے گئے وہ میری بیٹی کے تھے یا پھر کسی اور کے۔ پہلے سی بی آئی نے لاشوں کو قبر سے نکال کر تحقیقات میں تاخیر کی اور اب یہ بتایا جا رہا ہے۔‘
چونکہ یہ لڑکیاں نچلی ذات سے تعلق رکھتی تھیں اس لیے ان کو نذرِ آتش نہیں کیا گيا تھا بلکہ دفنایا گيا تھا۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں ذات کی خلیج بہت گہری ہے اور عام طور پر اونچی ذات والے نیچی ذات والوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔
بدایوں کے كٹرہ شہادت گنج گاؤں میں 27 مئی کو دو چچا زاد بہنوں کی لاشیں درخت سے لٹکی ملی تھیں۔
بھارت میں سنہ 2012 میں دہلی میں ہونے والے گینگ ریپ اور قتل کے واقعے کے بعد جنسی تشدد کے خلاف کڑے اقدام کیے جا رہے ہیں تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں ریپ کے واقعات کی روک تھام کے لیے قوانین سخت کیے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود ان میں کمی نظر نہیں آ رہی۔







