دہلی: ٹیکسی میں خاتون کا ’ریپ‘، ڈرائیور کی تلاش جاری

ایک بار پھر سے بھارتی دارالحکومت میں خواتین کے تحفظ کے مسئلے کے بارے میں سوال اٹھائے جا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنایک بار پھر سے بھارتی دارالحکومت میں خواتین کے تحفظ کے مسئلے کے بارے میں سوال اٹھائے جا رہے ہیں

بھارتی دارالحکومت دہلی میں ایک 27 سالہ خاتون کے ساتھ مبینہ طور پر ریپ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق اس خاتون نے کیب کے ڈرائیور پر ریپ کا الزام لگایا ہے۔

پولیس نے بتایا کہ یہ واقعہ سنیچر کی شب تقریبا ساڑھے نو بجے پیش آيا۔

دہلی سے ملحق شہر گڑگاؤں کی ایک مالیاتی کمپنی میں کام کرنے والی یہ خاتون شمالی دہلی کے اندرلوك میں اپنے گھر لوٹ رہی تھیں۔

میڈیکل جانچ میں ریپ کی تصدیق ہوئی ہے تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس خاتون کو اس سے قبل کسی قسم کا نشہ آور مادہ نہیں دیا گیا تھا۔

سرائے روہیلا پولیس تھانے میں آئی پی سی کی دفعہ 376 (ریپ)، 323 (دانستہ طور پر چوٹ پہنچانا) اور 506 (مجرمانہ دھمکی) کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

پولیس نے ڈرائیور کی شناخت بھی کر لی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ڈرائیور کی عمر تقریباً 35 سال ہے اور اسے گرفتار کرنے کی کوشش جاری ہیں۔

دو سال قبل 16 دسمبر کے واقعے کے بعد ملک بھر میں ریپ کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے اور دہلی میں بطور خاص یہ مظاہرے شدید تھے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشندو سال قبل 16 دسمبر کے واقعے کے بعد ملک بھر میں ریپ کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے اور دہلی میں بطور خاص یہ مظاہرے شدید تھے

سوشل میڈیا پر اس واقعے کے بارے میں شدید رد عمل ظاہر کیا جا رہا ہے اور ایک بار پھر سے بھارتی دارالحکومت میں خواتین کے تحفظ کے مسئلے کے بارے میں سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

عام آدمی پارٹی کے رہنما آشوتوش کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ ایک بار پھر بتاتا ہے کہ ’نربھيا کیس‘ سے پیدا ہونے والی بیداری کے باوجود دہلی اب بھی خواتین کے لیے محفوظ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ نربھیا کیس دو سال قبل دہلی کی ایک چلتی بس میں ایک طالبہ کے ساتھ اجتماعی ریپ کا معاملہ ہے۔ اس واقعے کے بعد اس لڑکی کی موت واقع ہوگئی تھی جس کے بعد ملک بھر میں شدید غم و غصے کی لہر پھیل گئی تھی اور جنسی زیادتیوں کے قوانین میں سختی لائی گئی تھی۔