بھارتی پنجاب میں گروگرنتھ کی بے حرمتی کے بعد کشیدگی

،تصویر کا ذریعہRavinder Robin
بھارتی ریاست پنجاب کے ضلع ترن تارن کے ایک گاؤں میں سنیچر کی صبح سکھوں کی مقدس کتاب گروگرنتھ صاحب کے ساتھ بے ادبی کے ایک اور واقعے کی اطلاعات کے بعد علاقے میں کشیدگی پھیل گئی ہے۔
چند روز قبل فرید کوٹ میں بھی اسی طرح کے ایک واقعے کے بعد کشیدگی پھیل گئی تھی جس کے بعد پر تشدد مظاہروں کا سلسلہ چل پڑا۔ ان واقعات میں اب تک پولیس کی کارروائی میں دو افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔
ترن تارن کے پولیس سپرنٹینڈنٹ جگموہن سنگھ نے سنیچر کے واقعے تصدیق کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس نے اس سلسلے میں ایک کیس درج کر لیا ہے اور معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق باٹھ گاؤں میں گروگرنتھ صاحب کی بے ادبی کا واقعہ پیش آیا ہے۔ اس خبر کے پھیلتے ہی کئی سکھ تنظیمیں مشتعل ہوگئیں۔
گاؤں میں آنے والے سکھ گرو دوارا مینیجنگ کمیٹی کے سابق نائب صدر اروندر پال سنگھ کے ساتھ دھینگا مشتی ہوئی۔ مظاہرین نے ہفتے کی صبح اخبار لے جا رہے ایک گاڑی کو آگ لگا دی۔ سکھ تنظیموں میں میڈیا کے خلاف بھی شدید غم و غصہ ہے۔
کشیدگی

،تصویر کا ذریعہRavinder Singh Robin
مختلف سکھ تنظیموں نے اپنے احتجاج کو تیز کرتے ہوئے جگہ جگہ ناکہ بندی کر دی ہے جس سے ٹریفک میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
دوسری طرف بدھ کو فرید کوٹ میں مظاہرین پر فائرنگ کا حکم دینے والے ضلع کے سینئر پولیس سپرنٹینڈنٹ چرنجيت سنگھ کو معطل کر دیا گیا ہے۔ فرید کوٹ میں پولیس کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہوگئے تھے اور کئی لوگ زخمی ہوئے تھے۔
گزشتہ ہفتےگروگرنتھ صاحب کی مبینہ بے ادبی کے بعد سے پنجاب کے کئی اضلاع میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اس کے خلاف پر تشدد مظاہروں کے بعد پنجاب کے کئی اضلاع میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امرتسر کے پولیس کمشنر جتیندر پال سنگھ اولكھ نے بتایا کہ جہاں جہاں ضرورت ہے پولیس فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ضلعے میں صورت حال قابو میں ہے۔
اطلاعات کے مطابق سنیچر کو ہی پنجاب کے وزیر اعلی پرکاش سنگھ بادل امرتسر میں سکھوں کی مقدس ترین عبادت گاہ گولڈن ٹیمپل جائیں گے اور تازہ حالات پر سکھ گرودوارہ مینیجنگ کمیٹی سے بات چیت کریں گے۔







