’گرداس پور میں حملہ کرنے والے پاکستان سے آئے تھے‘

،تصویر کا ذریعہEPA
بھارت نے الزام عائد کیا ہے کہ ریاست پنجاب کے گرداس پور ضلع میں پیر کی صبح ایک تھانے پر حملہ کرنے والے شدت پسند سرحد پار پاکستان سے آئے تھے۔
پاکستان نے اس الزام کو بےبنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اس قسم کے الزامات خطے کی سلامتی کے لیے خطرناک ہیں۔
گرداس پور میں ہونے والے حملے اور پولیس اور سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں تین حملہ آور، چار پولیس اہلکار اور تین عام شہری مارے گئے تھے۔
بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے جمعرات کو اس واقعے پر پارلیمان میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ حملہ کے بعد جائے وقوعہ سے تین اے کے 47 رائفلیں، 19 میگزین اور دو جی پی ایس برآمد کیے گئے تھے۔
نئی دہلی میں بی بی سی کے نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق وزیر داِخلہ نے کہا کہ ’جی پی ایس کے ڈیٹا کے ابتدائی تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ شدت پسند پاکستان سے آئے تھے اور انہوں نے اس علاقے سے بین الاقوامی سرحد پار کی تھی جہاں دریائے راوی پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’یہ شک بھی ہے کہ شدت پسندوں نے تلونڈی گاؤں کے قریب ریل کی پٹری پر پانچ بم بھی نصب کیے تھے جنہیں بعد میں ناکارہ بنا دیا گیا۔‘
راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ’ملک کے دشمنوں کی جانب سے بھارت کی علاقائی سالمیت اور سکیورٹی کو نشانہ بنانے یا اس کے شہریوں کی سکیورٹی کو خطرے میں ڈالنے کی کسی بھی کوشش کا سخت جواب دیا جائے گا۔۔۔اور حکومت سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کی سرگرمیوں کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہmofa
وزیر داخلہ کو اس معاملے پر منگل کو بیان دینا تھا لیکن سابق صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام کی وفات کی وجہ سے پارلیمان کا اجلاس دو دن کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا۔
ادھر پاکستان نے بھارتی وزیرداخلہ کے الزامات کو بےبنیاد قرار دیتے ہوئے انھیں یکسر مسترد کر دیا ہے۔
پاکستان نے اس حملے کے فوراً بعد بھی ایک بیان کے ذریعے اس واقعے کی شدید مذمت کی تھی۔
پاکستانی دفترِ خارجہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اس غیر منطقی اور بلاجواز دعوے کو مسترد کرتا ہے کہ گرداس پور کے واقعے میں ملوث افراد پاکستان سے بھارت میں داخل ہوئے تھے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارتی وزیرِ داخلہ کے اشتعال انگیز بیانات خطے کے امن و سلامتی کے لیے خطرناک ہیں۔
دفترِ خارجہ نے بھارت کی جانب سے دہشت گردی کے کسی بھی واقعے کا الزام پاکستان پر عائد کرنے کے مسلسل رجحان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی ذرائع ابلاغ میں گرداس پور کے واقعے کا الزام اس وقت ہی پاکستان پر لگا دیا گیا جب دہشت گردوں سے مقابلہ جاری تھا۔

،تصویر کا ذریعہEPA
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور دہشت گرد پاکستان اور بھارت دونوں کے مشترکہ دشمن ہیں۔
پاکستان نے کہا ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے تعاون کا طریقہ اپنانے کی ضرورت ہے اور الزام تراشی اس سلسلے میں مددگار ثابت نہیں ہوگی۔
خیال رہے کہ بھارت اور پاکستان کے وزرائے اعظم نے اسی ماہ روس کے شہر اوفا میں اپنے مذاکرات کے دوران باہمی بات چیت کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
اس سلسلے میں پہلے وزیراعظم پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز کو اپنے بھارتی ہم منصب اجیت دوول سے ملاقات کے لیے دہلی آنا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس بارے میں ابھی کوئی واضح بیان نہیں دیا گیا ہے کہ وزیر داخلہ کے دعوے کے بعد بھی یہ ملاقات ہوگی یا نہیں۔
تاہم اگر بات چیت کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو حکومت کے لیے اس کا جواز پیش کرنا مشکل ہوگا کیونکہ گذشتہ برس اس نےدہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر سے حریت کے رہنماؤں کی ملاقات پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے خارجہ سیکریٹریوں کے درمیان مذاکرات منسوخ کر دیے تھے۔







