بھارت:گرداس پور میں آپریشن مکمل، تین حملہ آوروں سمیت دس ہلاک

،تصویر کا ذریعہEPA
پاکستان کی سرحد سے متصل بھارتی ریاست پنجاب کے ضلع گرداس پور میں تھانے پر حملہ کرنے والے تینوں افراد کو کئی گھنٹے تک جاری رہنے والے آپریشن کے بعد ہلاک کر دیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے دوران ان تینوں حملہ آوروں کے علاوہ گرداس پور کے ایس پی بلجیت سنگھ سمیت چار پولیس اہلکار اور تین شہری بھی مارے گئے جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
پولیس کے مطابق پیر کی صبح حملہ آوروں نے پہلے بس اور پھر ایک گاڑی پر گولیاں چلائیں اور اس کے بعد ایک کار چھین کر دينانگر پولیس تھانے پر دھاوا بول دیا۔
پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں سے ان حملہ آوروں کا تصادم گھنٹوں تک جاری رہا جس کے بعد انھیں ہلاک کر دیا گیا۔
پنجاب پولیس کے سربراہ سمیدھ سنگھ سینی کے مطابق، ’تینوں شدت پسند فوجی وردی میں ملبوس اور اچھے ہتھیاروں، چینی ساختہ دستی بموں اور جی پی آر ایس نظام سے لیس تھے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty
پولیس کے سربراہ کے مطابق ’ان کے ساز و سامان کی جانچ ہو رہی ہے تاکہ ان کی صحیح شناخت پتہ چل سکے۔‘
پنجاب کے وزیر اعلی پرکاش سنگھ بادل نے کہا ہے کہ ’بہت سالوں کے بعد اس طرح کا پہلا واقعہ ہوا ہے۔ یہ ایک قومی مسئلہ ہے، اس کو قومی پالیسی سے ہی نمٹانے کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ حملہ اچانک ہوا ہے۔‘
خطرے کے بارے میں خفیہ معلومات کے سوال پر انھوں نے کہا: ’اِن پٹ کہاں دیا تھا؟ اگر اِن پٹ دیا تھا تو سرحد کو سیل کر دیا جانا چاہیے تھا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اس واقعے کے بعد دہلی میں وزیرِ اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی ہے اور وہ اس مسئلے پر منگل کو بیان دیں گے۔

،تصویر کا ذریعہRavinder Robin
حملے کے بعد وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بی ایس ایف کے ڈائریکٹر جنرل ڈی کے پاٹھک سے بھی بات کی اور بھارت اور پاکستان کی سرحد پر سکیورٹی بڑھانے کے ہدایات دی ہیں۔
ادھر پاکستان نے بھارتی شہر گورداس پور میں دہشت گرد حملے کی مذمت کی ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں دہشت گرد حملے سے متاثر ہونے والوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
بی بی سی کے نمائندے سوتک بسواس کا کہنا ہے کہ گرداس پور ایک بڑا دیہی ضلع ہے اور یہ پنجاب کے دوسرے اضلاع کی طرح خوشحال بھی نہیں اور اس طرح کے حملے کے لیے یہ پہلا ہدف نہیں ہو سکتا ہے۔
تاہم ان کے مطابق یہاں پہلی بار ایسا واقعہ نہیں ہوا ہے۔ پانچ سال قبل یہاں جنگجوؤں اور پولیس کے درمیان شدید خونریز لڑائی دیکھی گئی ہے۔








