کشمیر میں دستی بم کے حملے میں 14 افراد زخمی

،تصویر کا ذریعہepa
- مصنف, ریاض مسرور
- عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے جنوبی قصبہ شوپیان میں سنیچر کو نامعلوم افراد کی جانب سے پولیس کی تفتیشی ٹیم پر پھینکے جانے والے دستی بم کے زد میں آنے سے خواتین اور بچوں سمیت 14 راہگیر زخمی ہو گئے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ پولیس کی ایک تفتیشی ٹیم نجی ٹاٹا سومو میں عدالت کی طرف جا رہی تھی کہ نامعلوم سمت سے اس پر دستی بم پھینکا گیا۔
پولیس اہلکار اس واقعے میں محفوظ رہے ہیں لیکن ایک کم سن بچی اور خواتین سمیت 14 افراد زخمی ہوگئے۔
روبینا نامی اس بچی کی حالات نازک ہے اور اسے سری نگر کے ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔
شوپیان میں پولیس کے اعلیٰ افسر الطاف خان کے مطابق اس حملے کی تفتیش شروع کی جارہی ہے اور حملہ آوروں کو تلاش کیا جا رہا ہے تاہم کسی بھی مسلح گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
گذشتہ ماہ بھی شوپیان میں ہی ایک مسلح حملے میں چار پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس سال مسلح حملوں کے واقعات جنوبی کشمیر میں بڑھ گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق گذشتہ برس تک مسلح حملے شمالی کشمیر میں ہوتے تھے کیونکہ شمالی کشمیر کے سبھی اضلاع پاکستان کے ساتھ ملحقہ لائن آف کنٹرول کے قریب واقع ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کشمیری میں مسلح تشدد میں ایک ایسے وقت اضافہ ہوا ہے جب یہاں کی نئی حکومت سیاحت کو فروغ دینے کے لیے بالی وڈ کے فلم ستاروں اور فلم سازوں کو سرکاری مہمان کے طور پر کشمیر مدعو کر رہی ہے۔ وزیراعلیٰ مفتی محمد سعید نے خود ممبئی میں تمام فلم سازوں اور ستاروں کے لیے عشائیے کا اہتمام کیا۔
واشو بھگنانی کی فلم ’ویلکم ٹو کراچی'‘ کا پروموش بھی کشمیر میں ہی کیا جا رہا ہے۔ سلمان خان بھی ’بجرنگی بھائی جان‘ کی شوٹنگ مکمل کرنے کے لیے دوبارہ کشمیر آ رہے ہیں۔
یہ فلم کشمیر میں شوٹ نہیں کی گئی لیکن ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ بالی وڑ کی کسی فلم کی تشہیر کشمیر میں کی جا رہی ہے۔
مسلح تشدد میں اضافہ سے حکومت کی سیاحتی پالیسی کو نقصان پہنچا ہے۔
امرناتھ گپھا کے درشن کرنے کے لیے موسم گرما میں لاکھوں یاتری پورے بھارت سے کشمیر آتے ہیں۔ ان کے لیے سفری سہولیات اور دیگر انتظامات مقامی انتظامیہ امرناتھ بورڑ کی ہدایت پر کرتی ہے۔
پولیس کے سربراہ کے راجندرا کا کہنا ہے کہ سیاحت اور یاترا کے حوالے سے پوری پولیس فورس اور فوج کے درمیان رابطوں کو بہتر کیا گیا ہے۔







