یومِ جمہوریہ پر دہشت گردی کا خدشہ، سکیورٹی سخت

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, شکیل اختر
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
بھارتی فوج کے ایک سینیئر کمانڈر نے خبردار کیا ہے دہشت گرد یوم جمہوریہ اور امریکہ کے صدر براک اوباما کے دورۂ بھارت کے موقع پر سکولوں اور فوجی کیمپوں پر حملہ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
براک اوباما بھارت کے تین روزہ دورے پر 24 جنوری کو دہلی پہنچیں گے اور 26 جنوری کو یوم جمہوریہ کی پریڈ میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کریں گے۔
اس سلسلے میں بھارتی دارالحکومت میں سکیورٹی کے سخت انتظام کیے گئے ہیں اور ان کی آمد سے دس روز پہلے سے ہی اہم مقامات پر پولیس اور کمانڈوز تعینات کر دیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ شہر کے اہم سکولوں میں حفاظتی انتظامات سخت کر دیےگئے ہیں۔
کور کمانڈر لفٹیننٹ جنرل کے ایچ سنگھ نے جمعرات کو ایک نیوز کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے ’ پیر پنچال رینج کے اس پار دراندازی کے 36 مراکز پر تقریباً 200 شدت پسند بھارت میں داخل ہونے کی تاک میں بیٹھے ہیں۔‘
تاہم انھوں نے یقین دلایا کہ دراندازی روکنے کا نظام پوری طرح کارگر ہے اور ایسی کسی بھی کوشش کو ناکام بنا دیا جائےگا۔
اس سے قبل گزشتہ منگل کو فوج کے سربراہ جنرل دلبیر سنگھ نے کہا تھا کہ پاکستان کی جانب ’دہشت گردوں کا پورا ڈھانچہ برقرار ہے اور اپنے ملک میں نقصانات اٹھانے کے باوجود پاکستانی قوج نے جموں و کشمیر میں پس پردہ جنگ کی حمایت جاری رکھی ہے۔‘
میڈیا میں ایک دیگر اعلیٰ فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی سر زمین پر اب بھی بھارت مخالف دہشت گردی کے 44 تربیتی کیمپ موجود ہیں اور ان میں سے ڈیڑھ درجن کیمپ چوبیس گھنٹے سرگرم ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ سنہ 2014 میں جموں و کشمیر میں 110 شدت پسند ہلاک ہوئے اور یہ تعداد سنہ 2013 کے مقابلے تقریباً دوگنی ہے ۔







