اوباما کھلے آسمان کے نیچے بیٹھیں گے؟

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی
امریکہ کے صدر براک اوباما 26 جنوری کو بھارت کے یوم جمہوریہ کی تقریبات میں مہمان خصوصی ہوں گے۔
اس موقع پر انھیں بھارت کی فوجی قوت، مضبوط جمہوری اقدار اور ثقافتی تنوع کی ایک جھلک دیکھنے کو ملے گی۔ کچھ سبق سیکھیں گے اور ہوسکتا ہے کہ اسی بہانے امریکہ کے عوام کی زندگی بھی کچھ بہتر ہوجائے۔
بس مسئلہ یہ ہے کہ دہلی کی آب و ہوا اتنی خراب ہے کہ امریکی اہل کار انھیں زیادہ دیر کھلے آسمان کے نیچے نہیں رکھنا چاہتے، ان کی صحت اور سکیورٹی دونوں کو خطرہ ہو سکتا ہے!
اس بارے میں کوئی سرکاری بیان تو جاری نہیں کیا گیا ہے لیکن اخبار قیاس آرائیوں سے بھرے پڑے ہیں۔
اخبارات کا خیال ہےکہ صدر اوباما کا کھلے آسمان کے نیچے بیٹھنا، وہ بھی تقریباً دو گھنٹے کے لیے، یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ تعلقات کو کتنی اہمیت دیتے ہیں!

،تصویر کا ذریعہGetty
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بھارت بھی ان کی دوستی کی اتنی ہی قدر کرتا ہے؟ اگر ہاں تو انھیں اس سخت آزمائش میں کیوں ڈالا جا رہا ہے؟ صدر اوباما کیوں اسی ہوا میں سانس لیں جس میں سانس لینا عام شہریوں کے لیے مشکل ہو رہا ہے؟ لیکن دنیا کے سب سے طاقتور رہنما کو پریڈ دیکھنی ہے اور سب سےمقبول رہنما کو دکھانی ہے، اس لیے کچھ نہ کچھ راستہ تو نکالا ہی جائے گا۔
آسان راستہ تو یہ ہے کہ ایک پریڈ واشنگٹن میں بھی کرادی جائے یا پھر اوباما دہلی ہی کی پریڈ سکائپ پردیکھ لیں، وہ آلودگی سے بچ جائیں گےاور دہلی کے عوام ٹریفک کی مصیبتوں سے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
یوم جمہوریہ کی پریڈ اتنی بڑی ہوتی ہے کہ وہ کسی فائیو سٹار ہوٹل کی ایئرکنڈیشنڈ لابی میں نہیں ہوسکتی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دہلی کی آب و ہوا اتنی خراب ہے کہ 15 دنوں میں اسے بھی صاف نہیں کیا جاسکتا لیکن اسے صاف کرنے کی ضرورت بھی کیا ہے، اوباما تو کسی نہ کسی طرح دو گھنٹے کاٹ ہی لیں گے!
باقی بچتے ہیں تقریباً دو کروڑ دلی والے، جنھیں اگر صاف ہوا میں سانس لینے پر مجبور کیا گیا تو ان کی صحت کے لیے بھی بڑا خطرہ ہو سکتا ہے! امریکہ سے دوستی اپنی جگہ لیکن دہلی کی آب و ہوا پر دہلی والوں کا پہلا حق ہے۔
سائنسی تحقیق کا سنہرا دور
بھارت میں سائنس کانگریس کا اجلاس آخرکار ختم ہو ہی گیا۔ بہت سے سائسندانوں نے چین کی سانس لی ہوگی۔ در اصل ملک میں پرائمری سطح پر تعلیم کا نظام اتنا کمزور ہے کہ بہت سے سائسندانوں کا علم نامکمل رہ جاتا ہے لیکن جوکمی رہ گئی ہوگی، وہ اس کانگریس نے پوری کر دی ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
وہ اب ہوابازی اور خلا بازی کے قدیم ہندوستانی نسخوں اور ایجادات کو دنیا کے سامنے دوبارہ پیش کرسکیں گے۔ اب طیارے پلک جھپکتے ہی ایک سیارے سے دوسرے سیارے تک سفر کرسکیں گے، پلاسٹک سرجری کے لیے اب قیمتی طبی آلات اور دوائیوں کی ضرورت نہیں پڑے گی لیکن اس سب کے باوجود بے چاری خواتین کے لیے مسائل کم ہونے کے بجائے بڑھنے والے ہیں۔
مذہبی رہنما ساکشی مہاراج کو اگر آپ نہیں جانتے تو بس اب جان جائیے۔ وہ رکن پارلیمان ہیں اور اب انھوں نے ہندو عورتوں کو مشورہ دیا ہے کہ ہندو مذہب کو بچانے کے لیے وہ کم سے کم چار بچے پیدا کریں۔
سوشل میڈیا پر عورتوں کا جواب ہے: ’مہاراج، بچے تو ہم پیدا کردیں گے، پالنے آپکو پڑیں گے!‘







