سگریٹ نوشی سے تین میں سے ایک نوجوان کی زندگی خطرے میں

چین میں میں ایک طبی تحقیق کے ذریعے 20 سال سے کم عمر کے نوجوانوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر انھوں نے سگریٹ نوشی کی عادت ترک نہیں کی تو وقت سے قبل اُن کی اچانک موت واقع ہو سکتی ہے۔
دی لینسٹ میڈیکل جنرل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق اس وقت چین میں ہر تین میں سے دو مرد 20 سال کی عمر سے پہلے ہی سگرٹ نوشی شروع کردیتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق ان تام مردوں میں سے نصف کی موت سگریٹ نوشی کی عادت کی وجہ سے ہوئی ہے۔
سائنس دانوں نے 15 سال کے وقفے سے دو تحقیق کیں، جن میں ملک کے لاکھوں لوگوں کو شامل کیا گیا۔
یہ تحقیق آکسفورڈ یونیورسٹی، چائینیز اکیڈمی آف میڈیکل سائنس، چائینیز سینٹر آ ف ڈیسیس کنٹرول کے سائنس دانوں نے مل کر کی ہے۔
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اگر یہ رحجان جاری رہا تو سنہ 2030 تک ہر سال سگرٹ نوشی سے ہونے والی اموات کی تعداد 20 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ ان اموات کا شکار زیادہ مرد ہونگے۔
سائنس دانوں نے اس رحجان کو’ کم عمری کی اموات کی بڑھتی ہوئی وبا‘ سے تشبیہ دی ہے۔
تحقیق کے شریک مصنف، رچرڈ پیٹو کہتے ہیں کہ اگر لوگوں کو سگرٹ نوشی ترک کرنے کی طرف مائل کیا جائے تو امید شرحِ اموات کم کرنے کے بارے میں امید کی جا سکتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’ اموات کی اس بڑی تعداد کو روکنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آپ سگرٹ نوشی چھوڑدیں، اور اگر آپ جوان ہیں تو شروع ہی نہ کریں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

ترقی یافتہ ممالک میں سگریٹ پینے والوں کی تعداد میں کمی ہوئی ہے، جس میں امریکہ میں پانچ میں ایک شخص اس عادت کا شکار ہے لیکن چین میں اس کا رحجان بڑھ رہا ہے، کیونکہ ایک تو وہاں اب سگرٹ زیادہ دستیاب ہیں اور دوسرے وہ لوگوں کی قوت خرید میں بھی ہیں۔
چین میں حکام نے نوجوانی میں سگریٹ نوشی کی عادت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے عوامی مقامات پر سگرٹ پینے پر پابندی عائد کردی ہے لیکن یہ کوششیں لوگوں میں سگرٹ نوشی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث ناکام نظر آتی ہیں۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ چین سگریٹ کی فروخت پر ٹیکس لگا کر منافع حاصل کرتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق سگرٹ پینے والوں میں نصف فیصد کی موت اس عادت کی وجہ سے واقع ہوتی ہے۔







