بنگلہ دیش: دولتِ اسلامیہ کا جاپانی شہری کو ہلاک کرنے کا دعویٰ

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں غیر ملکیوں پر حملے غیر معمولی بات ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشننامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش میں غیر ملکیوں پر حملے غیر معمولی بات ہے

بنگلہ دیش میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی تنظیم نے سنیچر کو ایک جاپانی شہری کو ہلاک کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

بنگلہ دیش میں حالیہ دنوں یہ دوسرا واقعہ ہے جس میں دولتِ اسلامیہ نے غیر ملکی شہری کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

<link type="page"><caption> بنگلہ دیش میں اطالوی امدادی کارکن قتل</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/09/150929_italian_killed_bangladesh_atk.shtml" platform="highweb"/></link>

پولیس کے مطابق شمالی بنگلہ دیش میں ایک جاپانی شہری کو گولی مار کر ہلاک کیا دیا گیا ہے۔ ایک ہفتے کے دوران بنگلہ دیش میں غیر ملکیوں کی ہلاکت کا یہ دوسرا واقع ہے۔

سنیچر کو کسانوں کے ایک منصوبے پر کام کرنے والے کنیو ہوشی نامی جاپانی شہری پر شمالی بنگلہ دیش کے قصبے کونیا میں نامعلوم افراد نے حملہ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

پولیس نے اس حملے میں جاری تحقیقات میں چار افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ اس سے پہلے دولتِ اسلامیہ کی جانب سے اطالوی شہری کو ہلاک کرنے کے دعوے کے بارے میں پولیس کا کہنا تھا کہ انھیں اس بارے میں کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

اطالوی شہری سیزر ٹوالہ کی ہلاکت کے بعد امریکہ اور برطانیہ نے کہا تھا کہ ان کے پاس ایسی اطلاعات ہیں کہ بنگلہ دیش میں مغربی شہریوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور دونوں ملکوں نے بنگلہ دیش میں موجود اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی تلقین کی تھی۔

اس کے علاوہ آسٹریلیا کی کرکٹ ٹیم نے سکیورٹی خدشات کی وجہ سے بنگلہ دیش کا دورہ ملتوی کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ حالیہ عرصے میں بنگلہ دیش میں شدت پسند اسلامی گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔

رواں برس ملک میں شدت پسندوں کی جانب سے سیکولر بلاگرز پر حملے کیے گئے ہیں جن میں ایک امریکی شہری سمیت چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔