بنگلہ دیش میں اطالوی امدادی کارکن قتل

،تصویر کا ذریعہ
بنگلہ دیش میں پولیس حکام پیر کی رات گولی مار کر ہلاک کیے جانے والے اطالوی امدادی کارکن کے قتل کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
ڈھاکہ میں قتل کیے جانے والے 50 سالہ سیزر ٹوالہ کو مارنے کی ذمہ داری شدت پسند گروپ دولتِ اسلامیہ نے قبول کی ہے۔
<link type="page"><caption> بنگلہ دیش میں سیکولی بلاگر شدت پسندوں کے نشانے پر</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/08/150807_bangladesh_secular_blogger_killed_zs.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> سکیورٹی خدشات آسٹریلیا کا دورہ بنگلہ دیش موخر</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/sport/2015/09/150926_australia_bangldesh_tour_atk.shtml" platform="highweb"/></link>
پولیس کمشنر اسد الزمان میاں کا کہنا ہے کہ سیزر ٹوالہ چہل قدمی کر رہے تھے جب دو حملہ آروں نے پیچھے سے ان پر گولی چلا دی۔
واضح رہے کہ امریکہ اور برطانیہ نے کہا تھا کہ ان کے پاس ایسی اطلات ہیں کہ بنگلہ دیش میں مغربی شہریوں کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے اور دونوں ملکوں نے بنگلہ دیش میں موجود اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی تلقین کی تھی۔
امریکہ اور برطانیہ نے ملک میں اپنی سفارتی عملے کی نقل وحرکت بھی محدود کر دی تھی۔
بی بی سی کی ساؤتھ ایشیا ایڈیٹر جوانا جولی کا کہنا ہے کہ شدت پسند گروپ دولتِ اسلامیہ نے اس قبل بنگلہ دیش میں اپنی شاخ کے قیام کا کوئی اعلان نہیں کیا ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ گروہ نے ملک میں کسی کارروائی کی ذمہ داری لی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دولتِ اسلامیہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’صلیبی اتحاد‘ کے شہری مسلم ممالک میں محفوظ نہیں رہ سکتے۔
تاہم ڈھاکہ پولیس نے دولتِ اسلامیہ کے اس دعوے کے حوالے سے کسی قسم کا کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔
خیال رہے کہ حالیہ عرصے میں بنگلہ دیش میں شدت پسند اسلامی گروہوں کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
رواں برس ملک میں شدت پسندوں کی جانب سے سیکولر بلاگرز پر حملے کیے گئے ہیں جن میں ایک امریکی شہری سمیت چار افراد ہلاک ہوئے ہیں۔







