چین میں بحری جہاز کو حادثہ،’سینکڑوں مسافر لاپتہ‘

اطلاعات کے مطابق تیز ہواؤں اور موسلادھار بارش کے باعث امدادی کاموں میں دشواری پیش آرہی ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناطلاعات کے مطابق تیز ہواؤں اور موسلادھار بارش کے باعث امدادی کاموں میں دشواری پیش آرہی ہے

چین میں سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک مسافر بردار بحری جہاز ملک کے جنوب میں دریائے یانگ زے میں طوفان میں پھنسنے کے بعد ڈوب گیا ہے۔ جہاز پر 450 سے زیادہ افراد سوار تھے۔

خبر رساں ادارے شن ہوا نے مقامی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس حادثے میں اب تک پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ سینکڑوں تاحال لاپتہ ہیں۔

<link type="page"><caption> بحری جہاز کا حادثہ اور امدادی سرگرمیاں: تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/multimedia/2015/06/150602_china_ship_capsize_pics_zs.shtml" platform="highweb"/></link>

جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں جن میں ایک ہزار فوجی بھی حصہ لے رہے ہیں۔

سرکاری میڈیا کے مطابق وزیراعظم لی کی چیانگ نے بھی صوبہ ہوبیئی میں واقع جائے حادثہ کا دورہ کیا ہے۔

شن ہوا کے مطابق حادثے کے بعد متعدد افراد تیر کر کنارے پر پہنچنے میں کامیاب رہے، تاہم حادثے کو 15 گھنٹے سے زیادہ کا وقت گزر جانے کے باوجود جہاز پر سے اب تک صرف 12 افراد کو بچایا جا سکا ہے جن میں جہاز کے کپتان اور چیف انجینیئر کے علاوہ ایک 85 سالہ خاتون بھی شامل ہیں۔

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ انھیں الٹا ہوا بحری جہاز نظر آ رہا ہے اور کچھ لوگ اب بھی اس کے اندر پھنسے ہوئے ہو سکتے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق تیز ہواؤں اور موسلادھار بارش کے باعث امدادی کاموں میں دشواری پیش آ رہی ہے۔

 پیپلز ڈیلی کے مطابق جہاز میں سوار مسافروں کی عمریں 50 سے 80 سال کے درمیان تھیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن پیپلز ڈیلی کے مطابق جہاز میں سوار مسافروں کی عمریں 50 سے 80 سال کے درمیان تھیں

بحری جہاز مشرقی شہر نانجنگ سے جنوب مغرب میں واقع شہر چونگ کنگ جا رہا تھا جب یہ حادثہ پیش آیا۔ جس جگہ جہاز ڈوبا ہے وہاں پانی کی گہرائی 50 فٹ کے قریب ہے۔

مسافر بردار جہاز کے کپتان اور چیف انجینیئر کا کہنا ہے کہ بحری جہاز طوفان میں پھنسنے کے فوراً بعد ڈوب گیا۔ پولیس نے ان دونوں کو حراست میں لے لیا ہے۔

جہاز نے ڈوبنے سے قبل ہنگامی مدد کے لیے کوئی سگنل نہیں بھیجا تھا اور ذرائع ابلاغ کے مطابق تیر کر دریا سے باہر نکلنے والے افراد نے ہی ماہی گیروں کی مدد سے پولیس کو مطلع کیا۔

چینی خبر رساں ادارے کے مطابق ایسٹرن سٹار نامی چار منزلہ مسافر بردار تفریحی بحری جہاز میں 405 چینی شہری، ٹریول ایجنسی کے پانچ ملازمین اور عملے کے 47 ارکان سوار تھے۔

پیپلز ڈیلی کے مطابق جہاز میں سوار مسافروں کی عمریں 50 سے 80 سال کے درمیان ہیں اور ان میں سے بیشتر سیاح ہیں۔

سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق جہاز چونگ کنگ ایسٹرن شپنگ کارپوریشن کی ملکیت تھا جو دریائے یانگ زے کے کنارے واقع تھری گورجز کے خوبصورت علاقے کی سیر کے لیے لوگوں کو لے کر جاتا تھا۔

خیال رہے کہ رواں سال کے آغاز میں بھی چین میں کشتی کے ایک حادثے میں 22 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔