چینی بحریہ کی امریکی جاسوس طیارے کو وارننگ

چینی بحریہ کے ایک ریڈیو آپریٹر نے غصے میں کہا:’ یہ چینی بحریہ ہے، یہاں سے نکل جاؤ‘

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنچینی بحریہ کے ایک ریڈیو آپریٹر نے غصے میں کہا:’ یہ چینی بحریہ ہے، یہاں سے نکل جاؤ‘

چین کی بحریہ نے جنوبی بحیرۂ چین کے متنازع پانیوں میں تعمیر کیے جانے والے مصنوعی جزائر کے اوپر پرواز کرنے والے ایک امریکی جاسوس طیارے کو خبردار کیا ہے۔

<link type="page"><caption> چین متنازع جنوبی بحیرۂ چین میں ریتیلی چٹانوں پر مصنوعی جزائر تیار کر رہا ہے۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/04/150401_china_great_wall_sand_sea_mb" platform="highweb"/></link>

چینی بحریہ کی جانب سے خبردار کیے جانے پر امریکی جہاز میں سوار پائلٹوں نے جواب دیا کہ وہ بین الاقوامی فضائی حدود میں پرواز کر رہے ہیں۔

اس پر چینی بحریہ کے ایک ریڈیو آپریٹر نے غصے میں کہا:’ یہ چینی بحریہ ہے، یہاں سے نکل جاؤ۔‘

سی این این کے مطابق جاسوسی کرنے کا جدید ترین ہوائی جہاز P8-A Poseidon اس وقت 15 ہزار فٹ کی بلندی پر تھا اور یہ اس کی کم ترین بلندی تھی۔

چین کی وزاتِ خارجہ کے ایک ترجمان ہانگ لی نے معمول کی بریفنگ کے بارے میں بتایا کہ وہ سپریٹلی جزائر پر پیش آنے والے واقعے کے بارے میں آگاہ ہیں۔

’چین کا حق ہے کہ وہ ملک کی خودمختاری اور سمندر میں حادثات کی روک تھام کے لیے متعلقہ فضائی حدود اور پانیوں کی نگرانی کرے۔‘

P8-A Poseidon سے حاصل ہونے والی ویڈیو فوٹیج سی این این پر نشر کی گئی ہے جس میں نئے جزائر کی تعمیر کے حوالے سے سرگرمیوں کو دیکھا جا سکتا ہے جبکہ چینی بحریہ کے جہاز قریب ہی تعینات ہیں۔

یہ پہلی بار ہے کہ امریکہ نے حساس نوعیت کی ویڈیو جاری کی ہے۔

امریکی بحریہ کے مطابق چین نے جنوبی چینی سمندر میں چار مربع کلومیٹر کی مصنوعی زمین تیار کر لی ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنامریکی بحریہ کے مطابق چین نے جنوبی چینی سمندر میں چار مربع کلومیٹر کی مصنوعی زمین تیار کر لی ہے

امریکی جہاز کے کپتان مائیک پارکر نے جہاز میں سوار سی این این کے صحافیوں کو بتایا کہ یقینی طور پر چین کی جانب سے متنبہ کرنے کا پیغام فیری کراس ریف کی فوجی تنصیب سے آیا ہے جہاں ایک دو ہزار فٹ لمبا رن وے بھی موجود ہے۔

یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا جب حال ہی میں چین نے فلپائن کے ایک فوجی ہوائی جہاز کو جنوبی بحیرۂ چین میں واقع سپریٹلی جزائر سے نکلنے کا حکم دیا تھا۔

سپریٹلی جزائر پر ویت نام، فلپائن، اور تائیوان سمیت کئی ممالک اپنا دعویٰ کرتے ہیں۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ چین اس ان جزائر کے اطراف میں مونگوں کی زندہ چٹانوں پر ریت ڈال کر مصنوعی زمین تیار کر رہا ہے۔ ان میں سے بعض جگہیں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں جن کو کنکریٹ سے ہموار کیا جا رہا ہے۔ چین نے زمین پر تقریباً چار مربع کلومیٹر کا مصنوعی رقبہ تیار کرلیا ہے۔

عسکری امور کے ماہرین کے مطابق اس علاقے میں فوجی تصادم ہو سکتا ہے کیونکہ گذشتہ ہفتے ہی امریکی حکام نے کہا تھا کہ محکمۂ دفاع پینٹاگون چین کے بنائے جانے والے جزائر کے اطراف میں بحری نقل و حرکت کی آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے مزید ہوائی اور بحری جہاز بھیجنے پر غور کر رہا ہے۔

گذشتہ ہفتے ہی امریکی وزیرِ خارجہ نے چین کے دورے کے موقعے پر کہا تھا<link type="page"><caption> کہ چین جس سمت و رفتار سے جنوبی بحیرۂ چین کے علاقوں پر اپنا دعویٰ پیش کر رہا ہے اس سے انھیں تشویش ہے۔</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/regional/2015/05/150516_china_us_fm_meeting_mb.shtml" platform="highweb"/></link>

چین کے مصنوعی طور پر تیار کیے جانے والے جزائر پر رن وے بھی ہیں

،تصویر کا ذریعہelvis

،تصویر کا کیپشنچین کے مصنوعی طور پر تیار کیے جانے والے جزائر پر رن وے بھی ہیں

خیال رہے کہ چین جنوبی بحیرۂ چین میں اپنے عسکری سرگرمیاں میں اضافہ کر رہا ہے۔ اس سمندری علاقے سے سالانہ پانچ کھرب ڈالر مالیت کی مصنوعات گزرتی ہیں۔

سال 2013 میں چین نے شمال مشرقی بحیرۂ چین میں اپنے ’فضائی دفاعی علاقے‘ کی حد بندی کی تھی جس میں وہ جزیرہ بھی شامل ہے جس پر جاپان بھی اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے۔

چین کے وزارتِ دفاع کے مطابق جو جہاز بھی اس فضائی حدود میں داخل ہوگا اسے قوانین کی پابندی کرنی ہو گی یا چین کی طرف سے’ایمرجنسی دفاعی اقدامات‘ کا سامنا کرنا ہو گا۔