’چین کے اقدامات پر امریکہ کو تشویش‘

،تصویر کا ذریعہGetty
امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ چین جس سمت و رفتار سے جنوبی بحیرۂ چین کے علاقوں پر اپنا دعوی پیش کر رہا ہے اس سے انھیں تشویش ہے۔
اس بات کا اظہار انھوں نے بیجنگ میں چینی وزیر خارجہ وانگ کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
خیال رہے چین تقریبا تمام تر جنوبی بحیرۂ چین پر اپنا دعوی پیش کرتا ہے جو کہ برونائی، تائیوان، فلپائن، ویت نام اور ملائشیا کے دعووں سے متصادم ہے۔
دوسری جانب چین کے وزیر خارجہ نے کہا کہ چین اپنی خودمختاری کی حفاظت کرنے کا پابند ہے۔
خیال رہے کہ جان کیری اپنے اس دورے پر چینی صدر شی جن پنگ سمیت اعلیٰ عہدے داروں سے ملاقات کریں گے۔
مسٹر وانگ سے ملاقات کے بعد جان کیری نے کہا ’میں نے چین پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کرے جس سے کشیدگی کو کم کرنے میں مدد ملے اور مسائل کے سفارتی حل کے امکانات روشن ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
اس پر مسٹر چین کے وزیرِ خارجہ نے کہا ’چین اپنی خودمختاری اور اپنے علاقے کی سالمیت کی حفاظت کے لیے چٹان کی طرح غیر متزلزل ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم انھوں نے کہا کہ چین اور امریکہ کے درمیان اختلافات سے کہیں زیادہ مشترکہ مفادات ہیں۔
امریکی وزیرِ خارجہ ایک ایسے وقت میں دورہ چین کر رہے ہیں جب وہاں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پہلے ہی موجود ہیں۔
جمعے کو وزیراعظم مودی نے اپنے چینی ہم منصب کے ساتھ مذاکرات میں سرحدی تنازعات کا منصفانہ حل نکالنے پر اتفاق کیا۔
سخت اقدامات

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ جان کیری کے دورۂ چین کے ایجنڈے میں سب سے اہم نکتہ متنازع پانیوں میں چین کی سرگرمیوں پر بات کرنا ہے۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ چین 2000 ایکڑ رقبے کی ملکیت کا دعوٰ ی کرتا ہے تاہم یہ کہا جا رہا ہے کہ علاقائی حدود بڑھانے کے دعوے کی اصل وجوہات ابھی واضح نہیں ہیں۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ چین خطرے کی صورت میں سخت اقدامات کرے گا۔
بیجنگ نے ان اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ شاید امریکہ اپنے فوجی بحری جہازوں اور جیٹ طیاروں کو جنوبی بحیرۂ چین بھیج رہا ہے۔







