راجستھان میں آندھی سے 13 افراد ہلاک

بھارت میں اس موسم میں شمالی علاقوں میں آندھیاں معمول کی بات ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنبھارت میں اس موسم میں شمالی علاقوں میں آندھیاں معمول کی بات ہیں

بھارت کی مغربی ریاست راجستھان میں منگل کو تیز ہواؤں اور دھول بھری آندھی کے سبب کم از کم 13 لوگوں کی موت ہو گئی ہے جبکہ تقریبا 50 افراد زخمی ہو گئے۔

تقریبا 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی تیز ہواؤں کے اثرات سے سب سے زیادہ نقصان بیکانیر اور بھرت پور شہروں میں ہوا ہے۔

جے پور سے بی بی سی کے سابق نامہ نگار ناراين باریٹھ نے بتایا کہ راجستھان سمیت شمالی بھارت کی ریاستوں میں منگل کو اچانک موسم تبدیل ہوگیا اور دوپہر کے بعد دھول بھری آندھی چلنے لگی۔

راجستھان پولیس کے مطابق آندھی کی وجہ سے بھرت پور میں چار، دھولپور، جے پور، بیکانیر اور سواي مادھوپر میں دو دو لوگوں کی موت ہو گئی۔

انھوں نے کہا کہ ان اضلاع میں تقریبا 50 افراد زخمی بھی ہو گئے۔

تیز ہواؤں کے اثرات سے راجستھان کے کئی شہروں میں درخت اور بجلی کے کھمبے گر گئے۔

ہوائیں اتنی تیز تھیں کہ ٹرانسفارمر بھی زمین پر آ گرے۔ بیکانیر میں کم سے کم ایک ہزار بجلی کے کھمبے گر گئے اور کچے گھروں کی چھتوں سے چھپر اور ٹین کی چھتیں نیچے گر گئیں۔

پیڑوں کے گرنے سے راستے منقطع ہوجاتے ہیں اور بجلی کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے

،تصویر کا ذریعہALOK ANAND

،تصویر کا کیپشنپیڑوں کے گرنے سے راستے منقطع ہوجاتے ہیں اور بجلی کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے

محکمۂ موسمیات کے مطابق شمالی راجستھان میں مغربی دباؤ کی وجہ سے یہ آندھی اٹھی تھی۔

ریاستی دارالحکومت جے پور میں 76 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلیں۔ ریاست کے بعض علاقوں میں ہواؤں کی رفتار 100 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ تھی۔ بعض مقامات پر بارش کے ساتھ اولے بھی پڑے۔

ریاستی حکومت نے آندھی کے سبب حادثوں میں ہلاک ہونے والے لوگوں کے لواحقین کے لیے چار، چار لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔

آندھی سے معمول کا ٹریفک متاثر ہو کر رہ گیا اور بعض شہروں میں بجلی بھی معطل ہو گئي۔

آندھی کے بعد ہونے والی ہلکی بارش سے درجہ حرارت میں کمی آئی ہے اور اس سے راجستھان کے علاوہ دہلی، ہریانہ اور مغربی اتر پردیش میں گرمی سے راحت ملی ہے۔