بھارت میں’ہد ہد‘ سے ہلاکتوں کی تعداد 24 ہو گئی

طوفان سے بھارتی ریاست آندھر پردیش میں بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں سڑکیں بند پڑی ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنطوفان سے بھارتی ریاست آندھر پردیش میں بڑے پیمانے پر نقصانات ہوئے ہیں سڑکیں بند پڑی ہیں

بھارت کے مشرقی ساحل سے ٹکرانے والے سمندری طوفان ہدہد میں مرنے والوں کی تعداد 24 ہو گئی ہے جبکہ جنوب مشرقی ریاست آندھر پردیش اور اڑیسہ میں حکام نے متاثرہ افراد کی بحالی کی لیے کوششیں تیز کر دیں ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق اس طوفان کے نتیجے میں تقریباً چار لاکھ افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں اور مختلف کیمپوں میں پناہ گزین ہیں۔

طوفان سے بڑے پیمانے پر گھر منہدم ہوئے، پیڑ گرے، بجلی کا نظام درہم برہم ہوگیا، سڑکوں پر رکاوٹیں آ گئیں اور دونوں ریاستوں میں فصلیں تباہ ہوئی ہیں۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی تباہی کا اندازہ لگانے کے لیے منگل کے روز وشاکھا پٹنم سمیت متاثرہ علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں۔

محکمۂ موسمیات کی پیش گوئیوں کے مطابق بھارت کی چھ ریاستوں میں زبردست بارش اور اس کے نتیجے میں سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

امدادی ٹیمیں اور فوجیوں نے طوفان کے سبب سڑک پر گرنے والے درختوں کو ہٹانے، بجلی اور مواصلات کا نظام بحال کرنے اور وشاکھا پٹنم میں ملبے ہٹانے کا کام شروع کردیا ہے۔

وشاکھا پٹنم کے ہوائی اڈے کو زبردست نقصان پہنچا ہے اور اسے فی الحال بند کر دیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنوشاکھا پٹنم کے ہوائی اڈے کو زبردست نقصان پہنچا ہے اور اسے فی الحال بند کر دیا گیا ہے

واضح رہے کہ اتوار کو آنے والے اس طوفان میں سب سے زیاد نقصان آندھر پردیش کے وشاکھاپٹم ضلعے میں ہوا۔

بھارتی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فضائیہ متاثرہ علاقے میں طیاروں اور ہیلی کاپٹروں سے غذائی اشیا کے پیکٹ گرا رہی ہے۔

وشاکھا پٹنم کے ہوائی اڈے کو زبردست نقصان پہنچا ہے اور اسے فی الحال بند کر دیا گیا ہے۔اس کے چھت کا ایک حصہ اڑ گیا ہے اور رن وے پر پانی کھڑا ہے۔

آندھر پردیش کے سینيئر اہلکار پرکلا پربھاکر نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا ہے کہ اس طوفان میں صرف وشاکھا پٹنم میں 15 افراد ہلاک ہو گئے۔

پٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور ایندھن کی کمی پیر سے محسوس کی جا رہی ہے۔

تین لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہJAMIE KEN NEDY

،تصویر کا کیپشنتین لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے

آندھر پردیش کے وزیر اعلیٰ چندر بابو نائیڈو نے نمائندوں کو بتایا: ’وشاکھاپٹنم میری پسندیدہ مقامات میں سے ایک رہا ہے لیکن آج اس کی حالت دیکھ کر دکھ ہو رہا ہے۔‘

امدادی ٹیم کے ایک رکن نے کہا: ’ہمیں اپنے اس خوبصورت شہر کو از سر نو تعمیر کرنے میں 100 سال لگ جائیں گے۔‘

حکام کا کہنا ہے کہ آندھر پردیش میں ساڑھے چھ ہزار گھروں کو نقصانات پہنچے ہیں۔

ریاست اڑیسہ میں بھی مزید بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے جس کی وجہ سے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

وشاكھاپٹنم کے ساحلی علاقوں سے گزرتے ہوئے اس طوفان میں 205 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے تیز ہوائیں چلتی رہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنوشاكھاپٹنم کے ساحلی علاقوں سے گزرتے ہوئے اس طوفان میں 205 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے تیز ہوائیں چلتی رہیں

اطلاعات کے مطابق متاثرہ علاقے میں امداد کے لیے 24 ریلیف ٹیم اور 155 طبی ٹیموں کے علاوہ بحریہ کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ 223 کیمپوں میں لاکھوں لوگوں نے پناہ لے رکھی ہے۔

آندھر پردیش میں اس کا سب سے زیادہ زور نظر آیا۔

وشاكھاپٹنم کے ساحلی علاقوں سے گزرتے ہوئے اس طوفان میں 205 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے تیز ہوائیں چلتی رہیں اور اس کے ساتھ بارش بھی ہوتی رہی۔

1999 میں اُڑیسہ میں آنے والے ’سُپر سائیکلون‘ سے دس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے بھارتی بحریہ تیار ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے بھارتی بحریہ تیار ہے

گذشتہ اکتوبر میں اڑیسہ اور آندھرا پردیش سے گزرنے والے پہلِن طوفان کے پیشِ نظر پانچ لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

بھارت کے شمالی ساحل اور بنگلہ دیش میں اپریل سے نومبر کے درمیان سمندری طوفان آتے رہتے ہیں جس سے بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے۔

اس طوفان کی زد میں جو ریاستیں آنے والی ہیں وہاں امدادی ٹیموں کو روانہ کر دیا گیا ہے۔