طوفان ’ہد ہد‘ بھارتی سرحد سے ٹکرا گیا، متعدد ہلاک

تین لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہJAMIE KEN NEDY

،تصویر کا کیپشنتین لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے

خلیج بنگال سے اٹھنے والا سمندری طوفان ہدہد بھارت کے مشرقی ساحلوں سے ٹکرا گیا ہے جس سے شدید نقصان ہوا ہے اور تقریباً تین لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے۔ آندھرا پردیش میں اب تک تین افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے چھ گھنٹے تک یہ طوفان زمین پر اپنا سب سے زیادہ اثر دکھائے گا۔

وشاكھاپٹنم کے ساحلی علاقوں سے گزرتے ہوئے اس طوفان میں 205 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے تیز ہوائیں چل رہی ہیں اور اس کے ساتھ بارش بھی ہو رہی ہے۔

اس دوران ریاست آندھراپردیش اور اڑیسہ میں سینکڑوں درخت جڑ سے اکھڑ گئے اور بجلی کے تار زین پر آگرے جس سے بجلی گُل ہو گئی۔

خدشہ ہے کہ طوفان سے اونچی لہریں اٹھیں گی اور نچلے علاقے سیلاب کی زد میں آ جائیں گے۔

دونوں ریاستوں میں سینکڑوں ریلیف کیمپ لگا دیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگلے پانچ سے چھ گھنٹے بہت اہم ہیں۔

بھارت میں قومی آفات سے نمٹنے کے محکمے این ڈی آر ایف کے مطابق آندھر پردیش کے علاقے شريكاكلم اور وشاكھاپٹنم میں درخت کے نیچے دبنے سے تین افراد مارے گئے ہیں۔

بھارت کے محکمہ موسمیات کے مطابق یہ طوفان بہت تباہی پھیلا سکتا ہے۔

ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے بھارتی بحریہ تیار ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے بھارتی بحریہ تیار ہے

ریاست اڑیسہ میں حکام کا کہنا ہے کہ مزید تین لاکھ لوگوں کو محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایات دی گئی ہیں۔

ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے بھارتی بحریہ کو چوکس کر دیا گیا ہے۔

خصوصی رلیف کمشنر پردیپ کمار مہا پاترہ کا کہنا ہے کہ اس طوفان کا سامنا کرنے کے لیے حکام اور انتظامیہ پوری طرح سے تیار ہیں۔

1999 میں اُڑیسہ میں آنے والے ’سُپر سائیکلون‘ سے دس ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

گذشتہ اکتوبر میں اڑیسہ اور آندھرا پردیش سے گزرنے والے پہلِن طوفان کے پیشِ نظر پانچ لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا تھا۔

اڑیسہ میں ابھی صرف تیز ہوائیں چل رہی ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناڑیسہ میں ابھی صرف تیز ہوائیں چل رہی ہیں

بھارت کے شمالی ساحل اور بنگلہ دیش میں اپریل سے نومبر کے درمیان سمندری طوفان آتے رہتے ہیں جس سے بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے۔

اس طوفان کی زد میں جو ریاستیں آنے والی ہیں وہاں امدادی ٹیموں کو روانہ کر دیا گیا ہے۔