خلیجِ بنگال میں سمندری طوفان کے پیشِ نظر لاکھوں افراد کو گھر بار چھوڑنا پڑا ہے
،تصویر کا کیپشنحکام کا کہنا ہے کہ طوفان سے جو علاقے متاثر ہوں گے ان کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے اشیائے خورد و نوش پہنچانے کی تیاری کر لی گئی ہے
،تصویر کا کیپشناڑیسہ میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ ممکنہ متاثرہ افراد کے لیے عارضی پناہ گاہیں تیار کر رہے ہیں
،تصویر کا کیپشنبھارت میں خلیجِ بنگال میں آنے والے ایک بہت بڑے سمندری طوفان فائلن کے پیشِ نظر چار لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنسمندری طوفان فائلن کو ماہرِ موسمیات نے ’انتہائی شدید‘ طوفان کہا ہے اور یہ سنیچر کی شام بھارتی ریاستوں اڑیسہ اور آندھرا پردیش کے ساحلوں سے ٹکرائے گا
،تصویر کا کیپشنبھارتی محکمہِ موسمیات نے پیش گوئی کے مطابق یہ طوفان 220 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہوائیں اپنے ساتھ لے کر آئے گا
،تصویر کا کیپشنبھارتی محکمۂ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل کے حوالے سے بتایا گیا کہ ’ہواؤں کی رفتار کو دیکھتے ہوئے پتہ چلتا ہے کہ طوفان بہت زیادہ نقصان دہ ہو سکتا ہے۔‘
،تصویر کا کیپشنقدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے اہل کار سوریا نارائن پترا نے ایک مقامی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم قدرت سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم اس مرتبہ بہتر انداز میں تیار ہیں۔ ہم نے 1999 سے بہت کچھ سیکھا ہے۔‘
،تصویر کا کیپشناْڑیسہ کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے وزیر سوریا نارائن پترا نے کہا کہ ’ساحلی علاقوں میں کسی کو بھی مٹی اور کچے مکانات میں رہنے کی اجازت نہیں ہو گی۔‘
،تصویر کا کیپشنبھارت میں نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کا مشرقی ساحل اور بنگلہ دیش میں اکثر اپریل اور نومبر کے مہینوں کے درمیان سمندری طوفان آتے رہتے ہیں جن کی وجہ سے جانی اور مالی نقصان ہوتا ہے۔