چین میں پانڈے کا گوشت فروخت کرنے والے شکاری گرفتار

چین میں پانڈے کے شکار پر پابندی ہے

،تصویر کا ذریعہPapilio Alamy

،تصویر کا کیپشنچین میں پانڈے کے شکار پر پابندی ہے

چین کے سرکاری ٹی وی کے مطابق پولیس نے پانڈے کا شکار کرنے کے شبہ میں دس افراد کو گرفتار کیا ہے۔

ان افراد پر الزام ہے کہ یہ پانڈے کا گوشت اور کھال فروخت کرنے کے لیے اس کا شکار کرتے تھے۔

اطلات کے مطابق دسمبر میں ایک چھاپے میں پولیس کو پانڈے کی کھال اور دس کلوگرام گوشت ملا تھا۔

پولیس حکام کے مطابق پانڈے کو ملک کے جنوبی صوبے یوننان میں دو بھائیوں نے گولی مار کر ہلاک کیا تھا۔

سنہ 2014 کے عداد وشمار کے مطابق چین میں صرف 1864 جنگلی پانڈے رہ گئے تھے۔

چین میں سماجی رابطوں کی مقبول ویب سائٹ ویبو پر پوسٹ کی گئی تصاویر میں پانڈے کی ایک خون آلود کالی اور سفید کھال کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ان تصاویر میں گوشت سے بھرے دو تھیلے بھی نظر آ رہے ہیں۔

ڈیلی چائنا اخبار کا کہنا ہے کہ حکام کو چھاپے میں پانڈے کا سر بھی ملا ہے۔ پولیس کے مطابق مارے جانے والا پانڈا ایک بالغ مادہ تھی۔

حکام کی جانب سے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق گرفتار کیے جانے والے افراد میں دو شکاری اور ایک گوشت خریدنے والا شخص شامل ہے لیکن باقی سات افراد کی شناخت نہیں ظاہر کی گئی۔

واضع رہے کہ چین میں پانڈے کے شکار پر پابندی ہے اور خلاف وزی کرنے والوں کو دس سال سے عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے اور بعض حالات میں سزائے موت بھی دی جا سکتی ہے۔