اسرائیل چین کی’پانڈا سفارتکاری‘ کا نیا ہدف

،تصویر کا ذریعہAFP
چین کی مشہور ’پانڈا سفارتکاری‘ کا ایک نمونہ جلد ہی مشرق وسطیٰ میں نظر آنے والا ہے۔
اطلاعات کے مطابق چین دنیا بھر میں پسند کیے جانے والے اپنے دو پانڈا ریچھ اسرائیل کو تحفتاً دینے پر رضامند ہو گیا ہےـ
اسرائیل ہیوم ویب سائٹ کے مطابق شمالی اسرائیل کا شہر حیفہ کا ایک چڑیا گھر ان پانڈاؤں کا نیا مسکن ہوگا۔
حیفہ نے حالیہ دنوں میں چین میں پانڈا کی افزائش کے لیے مشہور شہر چنگڈو سے جڑواں شہر ہونے کا معاہدہ کیا ہے۔
حیفہ کے میئر کے مطابق خوبصورت اور پیار کرنے کے قابل ہونے کے علاوہ، پانڈا نسل پرستی کی مخالفت کی علامت بھی ہیں۔
انہوں نے ویب سائٹ سے بات کرتے ہوئے کہا ’یہ سیاہ ہے، سفید ہے اور ایشیائی بھی ہے اور پوری دنیا اس سے بہت پیار کرتی ہے‘۔
اگرچہ اسرائیل ہیوم ویب سائٹ اس غیر معمولی قدم کے بارے میں کافی پرجوش ہے مگر اسرائیلی اخبار ہاٹز نے اس بارے میں کافی محتاط رویہ اپنایا ہے۔
اخبار کا کہنا ہے کہ سرکاری طور پر معاہدہ اس وقت تک حتمی نہیں ہوگا جب تک چینی حکام اس بات سے مطمئن نہیں ہونگے کہ چڑیا گھر کا ماحول ان کے قیمتی بھالوؤں کے لیے موزوں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چڑیا گھر کے عملے کو اب پانڈا کی دیکھ بھال کے بارے میں جاننے کے لیے چینگڈو کا دورہ کرنا پڑے گا اور چینی حکام کی خواہشات کے مطابق پانڈوں کے لیے ایک خاص احاطہ بھی بنانا پڑے گا۔
تاہم ہاٹز اخبار کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر حیفہ کے چڑیا گھر میں تیاری مکمل کر لی جاتی ہے اور پانڈے آ جاتے ہیں تو اس بات کا امکان ہے کہ اسرائیلی ان کی محبت میں گرفتار ہو جائیں گے۔
چین سفارتی تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے کئی صدیوں سے دوسرے ممالک کو پانڈا دیتا رہا ہے مگر یہ پانڈے صرف ادھار دیے جاتے ہیں۔
عام طور پر انھیں دس سال کے لیے دیا جاتا ہے، مگر بیرون ملک پیدا ہونے والے پانڈا کے بچے کو جلد واپس لایا جا سکتا ہے، جیسا 2009 میں امریکہ میں پیدا ہونے والے تائی شینن نامی پانڈا کے ساتھ ہوا۔







