چین میں پانڈا کے تین بچوں کی رونمائی

دنیا میں پانڈوں کی تعداد مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے

،تصویر کا ذریعہxinhua

،تصویر کا کیپشندنیا میں پانڈوں کی تعداد مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے

چین کے ایک چڑیا گھر کے حکام کے مطابق ایک پانڈا نے ایک ساتھ تین بچوں کو جنم دیا ہے اور خیال ہے کہ یہ دنیا میں پہلی بار ہوا ہے کہ تینوں بچے زندہ ہیں۔

گوانگزو کے چائملونگ سفاری پارک کے حکام نے کہا ہے کہ پانڈا بچوں کی پیدائش 29 جولائی کو ہوئی اور ’یہ دنیا کے لیے ایک نیا عجوبہ ہے۔‘

چڑیا گھر نے منگل کو ایک بیان میں کہا کہ ایک ساتھ پیدا ہونے والے تین پانڈوں کا زندہ رہنا دنیا میں اپنی طرح کا ناقابل یقین واقعہ ہے۔‘

خیال رہے کہ نوزائیدہ پانڈوں کی شرح اموات بہت زیادہ ہے۔

ابھی ان بچوں کا نام نہیں رکھا گیا ہے اور نہ ہی ان کی جنس کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

پانڈا کی پیدائش کی شرح بہت کم ہے کیونکہ مادہ پانڈا سال میں صرف دو یا تین دن ہی حاملہ ہو پاتی ہیں اور جنگلی پانڈا دو یا تین سال میں صرف ایک بچے کو جنم دے پاتی ہیں۔

دنیا میں پانڈوں کی تعداد مسلسل کم ہوتی جا رہی ہے اور ڈبليو ڈبليو ایف کے مطابق اس وقت چین کے جنگلوں میں اس وقت 1600 پانڈا ہیں۔

2002 میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق ان کی تعداد تقریباً ایک ہزار تھی۔

پانڈوں کی کم ہوتی تعداد اتنا سنگین مسئلہ ہے کہ چند سال پہلے چینی حکومت نے ایک سافٹ ویئر بنایا تھا جس سے پانڈوں کو جنسی عمل کے لیے اپنا مثالی ساتھی تلاش کرنے میں مدد ملتی ہے۔

چڑیا گھر میں رہنے والے پانڈوں میں سیکس کی خواہش کم ہو جاتی ہے اور ایسے نر پانڈوں میں سے 60 فیصد سے بھی زیادہ میں سیکس کی خواہش نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔

اس لیے چڑیا گھر میں رہنے والے پانڈوں کی پیدائش ’آرٹیفشيل انسیمينیشن‘ یا مصنوعی طریقے سے حاملہ ہونے کے عمل کے ذریعے ہوتی ہے۔

اس ٹیکنالوجی کی مدد سے پانڈا کو جنم تو دیا جانے لگا ہے لیکن ان میں سے صرف آدھے ہی بچ پاتے تھے۔