دہلی میں گینگ ریپ فلم کی نمائش پر تحقیقات

کچی بستی میں یہ دستاویزی فلم لیپ ٹاپ اور پروجیکٹر کی مدد سے تقریبا 50 افراد کو دکھائی گئی

،تصویر کا ذریعہAjit Krishna

،تصویر کا کیپشنکچی بستی میں یہ دستاویزی فلم لیپ ٹاپ اور پروجیکٹر کی مدد سے تقریبا 50 افراد کو دکھائی گئی

بھارت میں پولیس حکام دہلی کی ایک جھگی بستی میں کینگ ریپ پر مبنی دستاویزی فلم دکھانے کی تفتیش کر رہی ہے۔

یہ دستاویزی فلم اس پسماندہ بستی میں دکھائی گئی جہاں ریپ کرنے والے مجرم رہتے تھے۔

یہ فلم کیتن دکشت نامی شخص نے دارالحکومت دہلی کے انتہائی پسماندہ علاقے روی داس کیمپ میں دکھائی۔

سنہ 2012 میں دہلی گینگ ریپ کے معاملے میں ملوث چاروں مجرم اسی علاقے میں رہتے تھے۔

حکومت کی جانب سے فلم پر پابندی کے باوجود یہ دوسری بار ہے جب کیتن دکشت نے اس فلم کی نمائش کی ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی حکام نے بی بی سی کی دستاویزی فلم ’انڈیاز ڈاٹر‘ پر اس وجہ سے پابندی عائد کر دی تھی کہ گینگ ریپ کے ایک مجرم مکیش سنگھ کے خواتین کے بارے میں نازیبا بیان سے ملک میں ایک بار پھر احتجاج شروع ہو سکتے ہیں اور امن و قانون کی صورتحال بگڑ سکتی ہے۔

فلم کی ہدایت کار لیزلی اڈون نے ان الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔ فلم پر عائد پابندی کے خلاف قانون کے تین طلبا نے عدالت میں درخواست دائر کی ہے۔ جس کی آئندہ ہفتے بدھ کو ہو گی۔

کیتن دکشت نے بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ فلم اس لیےدکھانا چاہتا تھا کیونکہ جھگی بستی اور دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگ صرف بالی وڈ کی فلم ہی دیکھ پاتے ہیں اور ان کو اس طرح کی فلموں تک رسائی نہیں ہوتی ہے۔‘

فلم کی نمائش غیر قانونی ہے اور پولیس اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے: ترجمان دلی پولیس

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنفلم کی نمائش غیر قانونی ہے اور پولیس اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے: ترجمان دلی پولیس

انھوں نے کہا کہ ’ یہ ایک اہم فلم ہے۔ ان غریب لوگوں کو ریپ کے اس معاملے کے بارے میں معلوم ہے اور وہ اس معاملے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ انھیں ایک ریپ کرنے والے کی ذہنیت کے بارے میں علم ہونا چاہیے۔‘

دہلی پولیس کے ترجمان راجن بھگت کے مطابق فلم کی نمائش غیر قانونی ہے اور پولیس نے معاملے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

اطلاعات کے مطابق کچی بستی میں یہ دستاویزی فلم لیپ ٹاپ اور پروجیکٹر کی مدد سے تقریباً 50 افراد کو دکھائی گئی۔

دہلی سے شائع ہونے والے انگریزی روزنامہ انڈین ایکسپریس کو ایک مقامی رہائشی نے بتایا ’ہم نے سوچا تھا کہ فلم کی نمائش سے کیمپ میں حالات بگڑ سکتے ہیں لیکن بعد میں ہمیں یہ یقین ہوگیا ہے تھا کہ ایسے دیکھنا ہمارے کے لیے اچھا اور ہمارے بچوں کو یہ بھی یہ فلم دیکھنی چاہیے۔‘

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ فلم کی نمائش کے درمیان بعض افراد اس لیے اُٹھ کر چلے گئے کیونکہ فلم انگریزی زبان میں تھی اور وہ انگریزی سمجھ نہیں سکتے تھے۔

دہلی گینگ ریپ پر یہ فلم برطانوی ہدایت کار لیزلی اڈون نے بنائی ہے جو بی بی سی اور انڈیا کے این ڈی ٹی وی چینل سمیت کئی ممالک میں آٹھ مارچ کو یوم خواتین کے موقع پر دکھائی جانی تھی۔

اس دستاویزی فلم میں گینگ ریپ کیس کے ایک مجرم مکیش سنگھ کا انٹرویو بھی شامل تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ریپ کے لیے مردوں سے زیادہ عورتیں ذمہ دار ہوتی ہیں۔

واضح رہے کہ دہلی میں گینگ ریپ کے اس واقعے کے بعد انڈیا میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہوئے تھے اور ریپ کے خلاف جو مہم شروع ہوئی تھی وہ ابھی بھی جاری ہے۔