بنگلہ دیش: جماعتِ اسلامی کے رہنما اظہر الاسلام کو سزائے موت

،تصویر کا ذریعہFocus Bangla
بنگلہ دیش میں جنگی جرائم کے ٹرائبیونل نے ایک مذہبی جماعت کے اعلیٰ رہنما کو سنہ 1971 کی پاکستان کے خلاف جنگ آزادی کے دوران جنگی جرائم کا مرتکب ہونے پر سزائے موت سنائی ہے۔
پراسیکیوٹرز نے کہا کہ اے ٹی ایم اظہر الاسلام نے جو کہ بنگلہ دیش کی سب سے بڑی مذہبی جماعت جماعت اسلامی کے نائب سیکریٹری جنرل ہیں، جنگ کے دوران پاکستان کی طرف جھکاؤ رکھنے والے ملیشیا گروپ کے ایک رکن کے طور پر وسیع پیمانے پر قتلِ عام میں حصہ لیا تھا۔
وہ چھٹے شخص ہیں جنھیں جنگی جرائم کے مرتکب مشتبہ ملزمان کو سزا دینے کے لیے چار سال پہلے بننے والے ٹرائبیونل نے سزا سنائی ہو۔
اسلام پسند جماعتوں کا کہنا ہے کہ یہ ٹرائبیونل انھیں سزا دینے کے لیے بنایا گیا ہے جبکہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروہ کہتے ہیں کہ یہ ٹرائبیونل بین الاقوامی معیار پر پورا ہی نہیں اترتا۔
بنگلہ دیش میں سنہ 2010 سے دو مختلف ٹرائبیونل جنگی جرائم کے مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں۔
ان عدالتوں کی تشکیل وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے احکامات پر کی گئی تھی اور ان کا کام جنگِ آزادی کے دوران کیے جانے والے جرائم کا جائزہ لینا ہے۔
2010 سے اب تک ان عدالتوں نے جن افراد کو مجرم ٹھہرایا ہے ان میں سے زیادہ تر کا تعلق حزبِ اختلاف کی پارٹی جماعتِ اسلامی ہے جو کہ بنگلہ دیش کی آزادی کی مخالف رہی تھی۔
جماعتِ اسلامی کا کہنا ہے کہ یہ تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان عدالتی کارروائیوں کے ناقدین کا بھی یہی کہنا ہے کہ حکومت جنگی جرائم کے ٹرائبیونل کو اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
دوسری جانب برسرِ اقتدار جماعت ’عوامی لیگ‘ کا کہنا ہے کہ ملک کے ماضی کو دفن کرنے کے لیے جنگی جرائم کی تفتیش ضروری ہے۔
سنہ 1971 میں نو ماہ تک جاری رہنے والی پاکستان سے علیحدگی کی جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں مختلف اندازے لگائے گئے ہیں۔
بنگلہ دیشی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ میں تقریباً 30 لاکھ افراد مارے گئے، جبکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے یہ تعداد حقیقت سے بہت زیادہ ہے اور نہ ہی ان اعداد و شمار کی کوئی تصدیق کی جا سکتی ہے۔
حال ہی میں بنگلہ دیش کی ایک عدالت نے انعام یافتہ برطانوی صحافی ڈیوڈ برگمین کو اس جنگ میں مرنے والوں کے سرکاری اعداد و شمار پر سوال اٹھانے پر توہینِ عدالت کا مجرم قرار دیا تھا۔







