’مظاہرین دوبارہ گلیوں کا رخ نہ کریں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹیو سی وائی لیونگ نے جمہوریت کے حامی مظاہرین کو خبردار کیا ہے کہ وہ پیر کی شب دوبارہ گلیوں کا رخ نہ کریں۔
چیف ایگزیکٹیو کا یہ بیان دو ماہ سے ہانگ کانگ میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جاری جھڑپوں میں بدترین تصادم کے بعد سامنے آیا ہے۔
بتایا جاتا ہے کہ پیر کے روز ہانگ کانگ میں سرکاری دفاتر جزوی طور پر بند رہے۔
پولیس نے مرچوں کے سپرے، لاٹھیوں اور تیز پانی کی دھار کے ذریعے ایڈمیرالٹی ڈسٹرکٹ کی لنگ وو نامی شاہراہ کو مظاہرین سے خالی کروایا۔
وائی لیونگ نے مظاہرین کو خبردار کیا کہ وہ پولیس کی جانب سے تحمل کو کمزوری سے تعبیر کرنے کی غلطی نہ کریں۔
انھوں نے کہا: ’آج کے بعد پولیس اپنے فرائص سرانجام دیتے ہوئے سخت کارروائی کرے گی۔ میں ان طالب علموں سے جو آج شب زیرقبضہ علاقے کی جانب لوٹنے کا سوچ رہے ہیں، کہتا ہوں کہ وہ ایسا نہ کریں۔‘
یاد رہے کہ اتوار کے روز جمہوریت کے حامی مظاہرین کی طرف سے حکومت کے ہیڈ کوارٹر کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کے بعد پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم ہوا ہے۔
جھڑپ کے وقت مظاہرین نے چھتریاں اٹھا رکھی تھیں جو ان کی تحریک کی علامت ہے، جبکہ پولیس کے پاس لاٹھیاں اور مرچوں کے سپرے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
احتجاج میں اس وقت تیزی آئی جب پولیس نے مظاہرین کے کئی کیمپوں میں سے ایک کو ہٹانا شروع کر دیا۔
گذشتہ دو مہینوں سے جاری اس احتجاجی تحریک کا مقصد چینی حکومت کی جانب سے بنائے گئے ان قوانین کی منسوخی ہے جس کے تحت چین ہانگ کانگ میں سنہ 2017 میں منتخب چیف ایگزیکٹیو کے امیدواروں کی چھان بین کر سکتا ہے۔
چینی حکومت کا کہنا ہے کہ سنہ 2017 کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے تمام شہریوں کو ووٹ کا حق دے گا لیکن چیف ایگزیکٹیو کے عہدے کے امیدواروں کی چھان بین کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
طالب علم رہنماؤں نے لوگوں کو بتایا کہ وہ احتجاجی مہم تیز کر رہے ہیں، اس کے بعد تازہ احتجاج کا آغاز اتوار کی شام ایک ریلی سے ہوا اور جب مظاہرین چیف ایگزیکٹیو سی وائی لیونگ کے دفتر کے قریب ایک بڑی شاہراہ پر جمع ہوئے تو پولیس نے ان پر دھاوا بول دیا۔
خبر رساں ادارے اے پی نے طالب علم رہنما ایلیکس چو کے حوالے سے بتایا کہ ’احتجاج میں تیزی لانے کا مقصد کارِ سرکار کو بند کرنا تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’حکومت کے کام کرنے کی رفتار سست پڑ گئی تھی۔۔۔ اور ہمیں یقین ہے کہ ہمیں سرکار کی طاقت کی علامت اس کے ہیڈ کوارٹر پر دباؤ بڑھانے کی ضرورت ہے۔‘
تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ وہ مظاہرین سے شاہراہ کو خالی کرانے کے لیے پرعزم ہے۔
گذشتہ ہفتے مانگ کوک کے تجارتی علاقے میں ایک کیمپ کو ہٹانے کے موقعے پر 100 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔







