ہانگ کانگ:’مظاہرین کا احتجاج کے مرکزی مقام پر اجتماع‘

،تصویر کا ذریعہAFP
ہانگ کانگ کے مختلف علاقوں میں ایک ہفتے سے زیادہ عرصے سے جمہوریت کے حق میں مظاہرہ کرنے والے ہزاروں افراد نے اب احتجاج کے مرکزی مقام کا رخ کر لیا ہے۔
مظاہرین کا رخ اب ’ڈسٹرکٹ ایڈمیرالٹے‘ کی جانب ہے جہاں تمام اہم سرکاری عمارات واقع ہیں۔
مظاہرین نے ابھی دیگر مقامات مکمل طور پر خالی نہیں کیے ہیں لیکن ہانگ کانگ سے ملنے والی خبروں کے مطابق ان کی بڑی تعداد اب مرکزی احتجاجی مظاہرے میں شامل ہو رہی ہے۔
یاد رہے کہ سنیچر کو ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹیو سی وائے لیونگ نے مظاہرین کو خبردار کیا تھا کہ پیر کو حکومتی دفاتر اور سکول دوبارہ کھولنے کے لیے پولیس ’تمام ضروری اقدامات‘ اٹھائے گی۔
ادھر ہانگ کانگ میں طلبا فیڈریشن نے کہا ہے کہ ان کی جانب سے سرکاری دفاتر کے راستوں کو خالی کر دیا گیا ہے تاکہ پیر کو ملازمین ڈیوٹی پر آسکیں۔
مظاہرین نے ہانگ کانگ کے مرکزی علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے۔ بی بی سی کی نامہ نگار جولیانا لیو کا کہنا ہے کہ کچھ مظاہرین نے مانگ کاک میں ہی رکنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ باقی ڈسٹرکٹ ایڈمیرالٹے میں پہنچ رہے ہیں۔
سنیچر کی رات ہزاروں افراد نے چین کی حمایت یافتہ انتظامیہ کے حکم عدولی کرتے ہوئے احتجاجی جلوس نکالا تھا تاہم اتوار کی صبح تک ان میں سے زیادہ تر مظاہرین اپنے گھروں کو جا چکے تھے۔
اتوار کو مظاہرین اور ہانگ کانگ کی حکومت نے ایک ہفتے سے زائد دنوں سے جاری مسئلے کے حل کے لیے بات چیت کرنے کی رضامندی بھی دی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہBBC CHINESE
فریقین کے درمیان بات چیت کا آغاز سنیچر کو ہونا تھا تاہم جمعہ کو ہونے والی چھڑپوں کی وجہ سے ہانگ کانگ سٹوڈنٹس فیڈریشن مذاکرات سے دستبردار ہو گئی تھی۔
اس احتجاجی تحریک کا مقصد چینی حکومت کی جانب سے بنائے گئے ان قوانین کی منسوخی ہے جن کے تحت چین ہانگ کانگ کے سنہ 2017 کے لیے منتخب چیف ایگزیکٹو کی چھان بین کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ جمہوری اصلاحات کے لیے ان سے مشاورت کا سلسلہ بحال کیا جائے۔
سنیچر کی رات بھر جاری رہنے والی ریلی میں مظاہرین ’ڈیموکریسی ناو! ڈیموکریسی ان ہانگ کانگ‘ یعنی فوری جمہوریت، ہانگ کانگ میں جمہوریت کا نعرہ لگاتے رہے۔
خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق جمہوریت کے حامی رہنماؤں نے مظاہرین کو اپنے مطالبے پر قائم رہنے کی تلقین کی۔
مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں اتوار کی صبح مونگ کوک ضلعے میں ہوئیں جس میں پولیس نے بعض مظاہرین کے خلاف کالی مرچ کے سپرے کا استعمال کیا۔
واضح رہے کہ حکومت اور مظاہرین کے درمیان بات چیت سڑکوں پر جاری تصادم کے نتیجے میں ملتوی ہو گئی اور اس کے بعد چیف ایگزیکٹیو سی وائے لیونگ نے کہا کہ وہ مظاہرین پر ہونے والے تشدد کی ’سخت مذمت کرتے ہیں‘ تاہم انھوں نے خبردار کیا ہے کہ یہ تشدد تب تک نہیں رک سکتا جب تک ہانگ کانگ میں ’سماجی نظام‘ دوبارہ قائم نہیں ہوتا۔

،تصویر کا ذریعہBBC CHINESE
جمعہ کے روز میں ہونے والی چھڑپوں کی وجہ سے ہانگ کانگ سٹوڈنٹس فیڈریشن مذاکرات سے دستبردار ہو گئی تھی۔
انھوں نے حکومت پر الزام لگایا ہے کہ اس نے کچھ گینگز کو مظاہرین پر حملہ کرنے کی اجازت دی تھی تاہم ہانگ کانگ کے سکیورٹی امور کے سربراہ لائی تنگ کوک نے اس الزام کی تردید کی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے جھڑپوں میں ملوث ہونے والے 19 افراد کو گرفتار بھی کیا ہے جن میں سے آٹھ افراد ’منظم جرائم کی سرگرمیوں‘ میں ملوث تھے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ روایتی طور پر منظم جرائم پیشہ افراد منشیات کے کاروبار، عصمت فروشی اور بھتہ خوری جیسے غیر قانونی کاموں سے جانے جاتے ہیں لیکن حالیہ برسوں میں وہ زمینوں کی خرید و فروخت اور سرمایے جیسے شعبہ جات میں بھی قدم رکھ رہے ہیں۔







