ہانگ کانگ کے نوجوان چین کے بڑھتے ہوئے اثر کے خلاف سراپا احتجاج
،تصویر کا کیپشنہانگ گانگ میں جمہوریت کے حامی نوجوانوں کے مظاہرے جاری ہیں۔ مظاہرین کے ایک طالبعلم رہنمانے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے مطالبے تسلیم نہ ہوئے تو وہ سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرلیں گے۔
،تصویر کا کیپشنمظاہرین کا مطالبہ ہے کہ 2017 میں ہانگ کانگ میں ہونے والے انتخابات میں امیدواروں کے انتخاب کے عمل میں چین کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے۔
،تصویر کا کیپشنمظاہرین ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹیو سی وائے لیونگ کے استعفےکا مطالبہ کر رہے ہیں۔ چینی حکومت نے سی وائے لیونگ کی حمایت کی ہے۔
،تصویر کا کیپشنہانگ کانگ کے ون ڈسٹرکٹ کونسل کے کونسلر پاؤل زمرمین نے کمیونسٹ پارٹی کے اجلاس میں چھتری لہرا کر مظاہرین کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا۔
،تصویر کا کیپشنمظاہرین کو چین کے اس وعدے پر اعتبار نہیں کہ انتخابی اصلاحات ہانگ کانگ میں خوشحالی اور استحکام کی ضمانت دیں گی۔
،تصویر کا کیپشنہانگ کانگ کے مرکزی علاقے میں کئی روز سے جاری مظاہروں میں مظاہرین سڑکوں پر راتیں گزار رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنبی بی سی کی نامہ نگار جولیانا نےاطلاع دی ہے کہ بدھ کو قومی تعطیل کی وجہ سے لوگ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ سڑکوں پر موجود تھے۔
،تصویر کا کیپشنمظاہرین کی اکثریت یونیورسٹی اور کالجوں کے طالبعلموں کی ہے جنھیں خدشہ ہے کہ چین ان کی آزادی پر قابض ہونے والا ہے۔
،تصویر کا کیپشنپولیس نے اتوار کے روز مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے برسائے لیکن بعد میں طاقت کا استعمال کو ترک کر دیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنمبصرین کا خیال ہے کہ 1989 میں تیانامن سکوائر کے واقعے کے بعد چین کو جمہوریت کے حامیوں کی طرف سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے۔