ہانگ کانگ: طاقت کے ’بےجا استعمال‘ کی تحقیقات

ہانگ کانگ مظاہرے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنٹی وی چینل پر نشر کی گئی ایک رپورٹ میں دکھایا گیا ہے کہ پولیس اہلکار ایک مظاہرہ کرنے والے کو پیٹ رہے ہیں جسے ہتھکڑی لگی ہوئی ہے

ہانگ کانگ میں پولیس کا محکمہ اس بات کی تحقیقات کر رہا ہے کہ آیا پولیس اہلکاروں نے جمہوریت کے حامی مظاہرین کے خلاف کہیں ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال تو نہیں کیا۔

مقامی ٹی وی چینلوں نے بدھ کو دکھایا کہ پولیس آفیسرز ہتھکڑی لگے مظاہرین کو پیٹ رہے تھے۔ جب سے مظاہرے شروع ہوئے ہیں یہ سب سے شدید چھڑپیں تھیں۔

ہانگ کانگ کی سکیورٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ ان پولیس والوں کو عارضی طور پر ان کے فرائض ادا کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

دوسری طرف ویب مانٹرنگ کرنے والے اور دیگر یوزرز کے مطابق چین میں بی بی سی نیوز کی انگریزی کی ویب سائٹ کو بظاہر بلاک کر دیا گیا ہے۔

اس سے پہلے بھی چینی انتظامیہ بی بی سی کی چینی زبان کی ویب سائٹ کو بلاک کرتے رہے ہیں اور کئی مرتبہ بی بی سی ورلڈ نیوز کی رپورٹوں کو بھی بلاک کیا گیا ہے۔

ہانگ کانگ میں جمہوریت کے حق میں احتجاج تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنہانگ کانگ میں جمہوریت کے حق میں احتجاج تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے

پولیس اور جمہوریت کے حامی مظاہرین کے درمیان تصادم اس وقت شروع ہوا جب پولیس نے شہر میں حکومت کے ہیڈکوارٹرز کے سامنے زیر زمین گزرگاہ کو خالی کرانے کی کوشش کی۔

بلوائیوں سے نمٹنے کے مخصوص لباس میں ملبوس سینکڑوں پولیس اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے مرچ کے سپرے اور ڈنڈوں کا استعمال کیا۔ انھوں نے اس دوران درجنوں افراد کو گرفتار بھی کیا۔

تصادم سے قبل ایک بریفنگ میں پولیس نے کہا کہ انھیں لنگ وو روڈ خالی کرنا ہے کیونکہ یہ سڑک پار کرنے کے لیے اہم گزرگاہ ہے۔

واضح رہے کہ مظاہرین نے ہانگ کانگ میں کئی علاقوں پر گذشتہ دو ہفتوں سے قبضہ کر رکھا ہے۔

طلبہ اور جمہوریت نواز گروپ اوکیوپائی سینٹرل پر مشتمل مظاہرین اس خطے میں مکمل طور پر آزادانہ انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

پولیس کے ایک ترجمان سوئی وائی ہونگ نے کہا کہ 37 مرد اور آٹھ خواتین کو ’غیر قانونی طور پر اکٹھا ہونے‘ کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپولیس کے ایک ترجمان سوئی وائی ہونگ نے کہا کہ 37 مرد اور آٹھ خواتین کو ’غیر قانونی طور پر اکٹھا ہونے‘ کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے

یاد رہے کہ ہانگ کانگ پر چین کا کنٹرول ہے اور چین کا موقف یہ ہے کہ ہانگ کانگ کے شہری ووٹ تو دے سکتے ہیں لیکن امیدوار چین ہی طے کرے گا۔

ہانگ کانگ میں بی بی سی کی نامہ نگار جولیانا لوئی کا کہنا ہے کہ ایسے پرتشدد واقعات بہت کم ہوئے ہیں۔

مقامی ٹی وی چینلوں نے ہاتھا پائی اور مار پیٹ کو براہ راست نشر کیا

،تصویر کا ذریعہBBC CHINESE

،تصویر کا کیپشنمقامی ٹی وی چینلوں نے ہاتھا پائی اور مار پیٹ کو براہ راست نشر کیا

مقامی ٹی وی چینلز نے ہاتھا پائی اور مار پیٹ کو براہ راست نشر کیا جہاں پولیس کے ہاتھوں متعدد مظاہرین کو گرفتار ہوتے ہوئے بھی دیکھایا گیا۔

پولیس کے ایک ترجمان سوئی وائی ہونگ نے کہا کہ 37 مرد اور آٹھ خواتین کو ’غیر قانونی طور پر اکٹھا ہونے‘ کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس ترجمان کے مطابق گرفتار ہونے والا کوئی بھی فرد زخمی نہیں ہوا ہے لیکن چار پولیس اہلکار زخمی ضرور ہوئے ہیں۔

مقامی ٹی وی چینل ٹی وی بی پر دکھایا گیا ہے کہ پولیس اہلکار ایک طالبِ علم کو ایک جانب لے گئے اور اس کی پٹائی کی۔

مظاہرے کی خبریں دینے والے ایک صحافی نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ انھیں بھی پولیس والوں نے مارا پیٹا ہے۔

مظاہرے کی خبریں دینے والے ایک صحافی نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ انھیں بھی پولیس والوں نے مارا پیٹا

،تصویر کا ذریعہBBC CHINESE

،تصویر کا کیپشنمظاہرے کی خبریں دینے والے ایک صحافی نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ انھیں بھی پولیس والوں نے مارا پیٹا

انھوں نے کہا: ’دس پولیس والوں نے مجھے دبوچ لیا اور مجھے لاتوں، گھونسوں اور کہنیوں سے مارا۔ میں نے ان کو بتانے کی کوشش کی کہ میں رپورٹر ہوں لیکن انھوں نے میری ایک نہیں سنی۔‘

بعد میں پولیس نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ پولیس کے حد سے زیادہ طاقت کے استعمال کی تفتیش کی جائے گی۔

ہانگ کانگ میں جاری احتجاج تیسرے ہفتے مین داخل ہو چکا ہے اور مظاہرین چین اور ہانگ کانگ کے حکام پر جواب کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔