ہانگ کانگ میں مظاہرین اور پولیس میں دوبارہ تصادم

،تصویر کا ذریعہAFP
ہانگ کانگ میں جمہوریت کے حامی مظاہرین اور پویس کے درمیان دوبارہ جھڑپیں ہوئی ہیں۔
اس سے پہلے مظاہرین نے مونگ کاک کیمپ پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے جسے چند گھنٹے قبل پولیس نے خالی کروایا تھا۔
بعض اطلاعات کے مطابق جب مظاہرین نے پولیس کی رکاؤٹوں کو ختم کرنے کی کوشش کی تو اس پر ہاتھا پائی ہو گئی۔
تصادم کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں اور مظاہرین کو معمولی زخم آئے ہیں۔
مظاہرین نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر پولیس پر الزام عائد کیا کہ وہ بلااشتعال تصادم کی ذمہ دار ہے جبکہ فریقین کے رہنماؤں نے پرامن رہنے کی درخواست کرتے ہوئے آئندہ جمعرات کو حکومت اور مظاہرین کے رہنماؤں کے درمیان بات چیت ہونے کی تصدیق کی ہے۔
اس سے پہلے مظاہرین نے پولیس سے تصادم کے بعد یہ جگہ دوبارہ حاصل کی تھی جس کے دوران پولیس نے ان کے خلاف ڈنڈے اور کالی مرچ کے سپرے کا بھی استعمال کیا۔مظاہرین نے چھتریاں کھول کر اپنا دفاع کیا اور پولیس کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔

انھوں نے اہم شاہراہ پر دوبارہ قبضہ کر کے دونوں جانب سے آنے والی ٹریفک کو روک دیا۔اس سے قبل پولیس نے کہا تھا کہ اس نے جمعے کو 26 افراد کو حملہ کرنے کے جرم میں گرفتار کیا۔
پولیس کے مطابق جمعے کو ہونے والے تصادم کے دوران 15 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اس تصادم کے دوران متعدد مظاہرین زخمی ہوئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس احتجاجی تحریک کا مقصد چینی حکومت کی جانب سے بنائے گئے ان قوانین کی منسوخی ہے جس کے تحت چین ہانگ کانگ میں سنہ 2017 میں منتخب چیف ایگزیکٹو کی چھان بین کر سکتا ہے۔
مظاہرین کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ جمہوری اصلاحات کے لیے ان سے مشاورت کا سلسلہ بحال کیا جائے۔ ہانگ کانگ میں گذشتہ تین ہفتوں سے جمہوریت کے حق میں مظاہرے جاری ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP
ہانگ کانگ کے مرکزی علاقے پر قابض مظاہرین نے چنی زبان میں ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی جانب سے مظاہرین کو ہٹائے جانے سے ان میں قبضہ کرنے کی ایک نئی لہر اٹھی ہے جس سے پولیس اور شہریوں کے رشتے مزید خراب ہوئے ہیں۔
اخبار ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق اس سے قبل جمعے کو طلبا کی جماعت کے اتحاد کی جانب سے ایلکس چو نے کہا کہ طلبا اور حکومت دونوں نے آنے والے منگل کو ملاقات پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ دونوں کے درمیان بات چیت کو براہ راست ریڈیو پر نشر بھی کیا جائے گا۔
جمعرات کو ہانگ کانگ کے رہنما سی وائی لیونگ نے کہا تھا کہ حکومت بات چیت کے لیے راضی ہے لیکن چین امیدوار کو جانچنے کے اپنے فیصلے کو واپس نہیں لے گا۔







