ہانگ کانگ حکومت مظاہرین سے ’مذاکرات کے لیے تیار‘

مظاہرین نے گذشتہ تین ہفتوں سے ہانگ کانگ کے کلیدی علاقوں پر دھرنا دے رکھا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنمظاہرین نے گذشتہ تین ہفتوں سے ہانگ کانگ کے کلیدی علاقوں پر دھرنا دے رکھا ہے

ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹیو سی وائی لیونگ نے کہا ہے کہ حکومت اگلے ہفتے طلبہ پر مشتمل مظاہرین سے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرکاری عمارتوں کے قریب ایک بڑی سڑک پر دوسری رات بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

سی وائی لیونگ نے کہا کہ حکام رواں ہفتے کے دوران رابطہ کاروں کی مدد سے مظاہرین سے گفت و شنید کرتے رہے ہیں۔

مظاہرین برہم ہیں کہ چینی حکومت نے 2017 میں ہانگ کانگ کے سربراہ کے انتخابات میں اس بات پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں کہ اس میں کون حصہ لے سکتا ہے اور کون نہیں۔

مظاہرین نے گذشتہ تین ہفتوں سے شہر کے کلیدی علاقوں پر دھرنا دے رکھا ہے تاکہ حکام پر ہانگ کانگ میں اصلاحات نافذ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔ ان میں مکمل آزادنہ انتخابات کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

ابتدا میں ہزاروں لوگ مظاہروں میں شامل تھے لیکن حالیہ دنوں میں ان کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔

لیونگ نے نامہ نگاروں کو بتایا: ’گذشتہ چند دنوں میں ہم نے رابطہ کاروں کی مدد سے طلبہ سے کہا ہے کہ ہم عام حقِ رائے دہی کے بارے میں بات کرنے کے لیے مذاکرات شروع کرنا چاہتے ہیں۔ یہ کام جتنی جلد ممکن ہو سکے، شروع ہو جائے گا، امید ہے کہ اگلے ہفتے سے۔‘

انھوں نے کہا کہ حکام ہانگ کانگ میں قانون کے مطابق امن و امان کی صورتِ حال اور ٹریفک کی بحالی کے لیے کوشاں رہیں گے۔

چیف سیکریٹری کیری لیم نے گذشتہ ہفتے طلبہ کے رہنماؤں سے مقررہ مذاکرات منسوخ کر دیے تھے اور کہا تھا کہ ان کے ساتھ تعمیری مذاکرات کرنا ناممکن ہے۔