ایران میں’میچ دیکھنے‘پر گرفتار خاتون ضمانت پر رہا

غنچہ کو گرفتار کرنے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا لیکن جب وہ دوبارہ اپنا سامان لینے گئیں تو انھیں پھر حراست میں لے لیا گیا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنغنچہ کو گرفتار کرنے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا لیکن جب وہ دوبارہ اپنا سامان لینے گئیں تو انھیں پھر حراست میں لے لیا گیا

ایران میں مردوں کا والی بال میچ دیکھنے کے الزام میں گرفتار ایرانی نژاد برطانوی خاتون غنچہ قوامی کے خاندان کے مطابق انھیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔

غنچہ قوامی کے خاندان کے مطابق غنچہ کو درپیش صحت کے مسائل کی وجہ سے رہا کیا گیا ہے اور وہ اپیل کورٹ کے فیصلے تک تہران میں اپنے والدین کے پاس رہیں گی۔

غنچہ قوامی کے بھائی نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا’ ان کی بہن کو چند گھنٹے قبل ہی جیل سے رہا کیا گیا ہے اور اپیل کورٹ کے فیصلے تک تہران میں اپنے والدین کے ساتھ رہیں گی۔‘

’ہر کوئی جانتا ہے کہ انھوں نے کچھ نہیں کیا اور ان کو گذشتہ پانچ ماہ بھی جیل میں نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘

ایران کے ایک اخبار شرق نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ غنچہ قوامی کو 38 ہزار ڈالر ضمانت کی رقم ادا کرنے پر رہا کیا گیا ہے۔

رواں ماہ کی غنچہ کی ماں سوسن مشتغیان نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ غنچہ ان کے بقول اپنی غیر قانونی گرفتاری کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں۔

غنچہ کے وکیل کے مطابق ان کی موکلہ کو ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے تاہم ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ پراسیکیوٹر نے ان کے سزا کی تصدیق ابھی تک نہیں کی۔

25 سالہ غنچہ قوامی کو رواں سال جون میں اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ مردوں کا والی بال میچ دیکھنے سٹیڈیم گئیں تھیں۔

 25 سالہ غنچہ قوامی کو رواں سال جون میں اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ مردوں کا والی بال میچ دیکھنے سٹیڈیم گئیں تھیں
،تصویر کا کیپشن 25 سالہ غنچہ قوامی کو رواں سال جون میں اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ مردوں کا والی بال میچ دیکھنے سٹیڈیم گئیں تھیں

خیال رہے کہ غنچہ نے اس سے پہلے گذشتہ اکتوبر میں قید تنہائی کے خلاف بھوک ہڑتال کی تھی۔

غنچہ قوامی کے وکیل محمود علی زادہ طبطبائی نے اتوار کو کہا تھا کہ غنچہ قومی کو نظام کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کے الزام میں ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

تاہم بی بی سی فارسی کی نامہ نگار قصریٰ نجی کا کہنا ہے کہ مرکزی انقلاب عدالت نے ان کا کیس سزی کی تصدیق یا کیس میں دیر لگانے کی وجہ بیان کیے بغیر پراسیکیوٹر دفتر واپس بھیجوا دیا ہے۔

بظاہر غنچہ کو 20 جون کو میچ کے بعد گرفتار کیا گیا۔ اس وقت وہاں خواتین کے میچ دیکھنے پر پابندی کے خلاف احتجاج کیا جا رہا تھا لیکن غنچہ کے بھائی امان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ’ان کی بہن صرف سٹیڈیم میں میچ دیکھنے کے لیے گئی تھیں۔‘

’غنچہ قومی کو نظام کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کے الزام میں ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے‘: تصویر میں غنچہ دائیں جانب ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشن’غنچہ قومی کو نظام کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کے الزام میں ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے‘: تصویر میں غنچہ دائیں جانب ہیں

غنچہ کو گرفتار کرنے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا لیکن جب وہ دوبارہ اپنا سامان لینے گئیں تو انھیں پھر حراست میں لے لیا گیا۔امان کے مطابق ان کے والدین کو گرفتاری کے تقریباً 50 دن بعد اپنی بیٹی سے ملنے کی اجازت دی گئی۔

حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنٹسی انٹرنیشنل کے مطابق ایران میں خواتین پر فٹبال میچ دیکھنے پر سال 1979 سے پابندی عائد ہے جبکہ سال 2012 میں اس پابندی میں والی بال میچوں کو بھی شامل کر دیا گیا۔

تنظیم کے مطابق 13 جون سے اس مسئلے پر دوبارہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ایران اور برازیل کے مابین میچ کے دوران برازیل کی خواتین کو میچ دیکھنے کی اجازت دی گئی تاہم ایرانی خواتین کو اجازت نہیں مل سکی۔