’میچ دیکھنے پر‘گرفتار غنچہ کی رہائی کی اپیل

۔۔۔ غنچہ قوامی کو رہا کرنے کے بعد دوبارہ گرفتار کیا گیا
،تصویر کا کیپشن۔۔۔ غنچہ قوامی کو رہا کرنے کے بعد دوبارہ گرفتار کیا گیا

ایران میں زیرِ حراست ایرانی نژاد برطانوی خاتون کے اہلخانہ نے ان کی رہائی کی اپیل کی ہے۔

25 سالہ غنچہ قومی کو رواں سال اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ مردوں کا والی بال میچ دیکھنے سٹیڈیم گئیں تھیں۔

غنچہ کے خاندان کے مطابق ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انھیں کس الزام کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق غنچہ کے ایرانی دارالحکومت تہران کی جیل میں رکھا گیا ہے۔

برطانوی دفترِ خارجہ کے مطابق وہ ایک برطانوی شہری کی حراست سے متعلق معلومات سے آگاہ ہیں اور اس کیس پر کام کیا جا رہا ہے۔

برطانوی دفترِ خارجہ کے مطابق’ایران میں مشکل سے دوچار کسی برطانوی شہری کی مدد کرنے کی محدود صلاحیت حاصل ہے اور توقع نہیں کر رہے کہ ایرانی حکام اس تک قونصلر رسائی دیں۔‘

بظاہر غنچہ کو 20 جون کو میچ کے بعد گرفتار کیا گیا۔ اس وقت وہاں خواتین کے میچ دیکھنے پر پابندی کے خلاف احتجاج کیا جا رہا تھا لیکن غنچہ کے بھائی امان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ’ان کی بہن صرف سٹیڈیم میں میچ دیکھنے کے لیے گئی تھیں۔‘

غنچہ کو گرفتار کرنے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا لیکن جب وہ دوبارہ اپنا سامان لینے گئیں تو انھیں پھر حراست میں لے لیا گیا۔

امان کے مطابق ان کی بہن کے وکیل کو بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے تاہم ان کے والدین کو گرفتاری کے تقریباً 50 دن بعد اپنی بیٹی سے ملنے کی اجازت دی گئی۔

حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنٹسی انٹرنیشنل کے مطابق ایران میں خواتین پر فٹبال میچ دیکھنے پر سال 1979 سے پابندی عائد ہے جبکہ سال 2012 میں اس پابندی میں والی بال میچوں کو بھی شامل کر دیا گیا۔

تنظیم کے مطابق تیرہ جون سے اس مسئلے پر دوبارہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ایران اور برازیل کے مابین میچ کے دوران برازیل کی خواتین کو میچ دیکھنے کی اجازت دی گئی تاہم ایرانی خواتین کو اجازت نہیں مل سکی۔