امریکہ کی فتح، ایران کی برابری

،تصویر کا ذریعہGetty
برازیل میں کھیلے جانے والے ورلڈ کپ 2014 کے گروپ جی میں امریکہ نے افریقی ملک گھانا کی ٹیم کو ہرا کر پچھلے دو ورلڈ کپ مقابلے کے دوران گھانا سے شکست کا بدلہ لے لیا ہے۔
میچ انتہائی تیز رفتاری سے شروع ہوا۔ امریکی کھلاڑی کلنٹ ڈیمپسی نے کھیل کے پہلے منٹ میں گول کر کے ٹیم کو برتری دلوا دی۔
کلنٹ ڈیمپسی کا گول فٹبال ورلڈ کپ کی تاریخ کا پانچواں تیز ترین گول تھا۔
گھانا نے کئی بار امریکی گول پر حملے کیے لیکن امریکی ٹیم زیادہ منظم انداز میں کھیل رہی تھی اور اس نے گھانا کے فاروڈ کھلاڑیوں کی ایک نہ چلنے دی۔
پہلے ہاف کے اختتام پر امریکہ کی برتری برقرار تھی۔
ماہرین کے خیال میں گھانا اپنی اس پوری رفتار سے نہیں کھیل رہا تھا جس کے لیے وہ جانے جاتے ہیں۔
بی بی سی کے فٹبال ماہر بوبی سیویج کا کہنا تھا کہ گھانا کو کھیل میں واپس آنے کے لیے کھیل کی رفتار بڑھانی ہوگی۔
’گھانا کو میچ کا ٹیمپو بڑھانا پڑےگا۔ میچ بہت سست روی سے کھیلا جا رہا ہے۔گھانا کو امریکی گول پر زیادہ حملے کرنے ہوں گے۔‘
گھانا نے میچ کے 82ویں منٹ میں گول کر کے میچ برابری پر لا کھڑا کیا۔
البتہ امریکی ٹیم نے صرف چار منٹ کے اندر کارنر پر دوسرا گول کر کے پھر برتری حاصل کرلی جو آخری منٹ تک قائم رہی۔
ایران نائجیریا کا میچ برابر
اس سے پہلے ورلڈ کپ کے گروپ ایف کے میچ میں ایران اور نائجیریا کا میچ برابری پر ختم ہوا۔
یہ ورلڈ کپ کا پہلا میچ تھا جو برابری پر ختم ہوا ہے۔ اس میچ میں دونوں ٹیمیں کوئی گول نہ کر سکیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اس ورلڈ کپ میں ابھی تک بہت سے دلچسپ اور فیصلہ کن میچ ہوئے اور یہی وجہ ہے کہ اس میچ سے ماہرین اور شائقین بہت مایوس ہوئے۔
ایران کو اس سے قبل تین ورلڈ کپ ٹورنامنٹس میں اپنے پہلے ہی میچ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ انہوں نے اپنا پہلا میچ برابر کر کے ٹونامنٹ کے پہلے میچ میں ایک پوائنٹ حاصل کر لیا ہے۔
ایران کے پرتگالی کوچ کارلوس اپنی ٹیم کی کارکردگی سے مطمئن نظر آئے۔ ان کا کہنا تھا ’میں بہت خوش ہوں۔ یہ ایک مشکل میچ تھا اور ہمارا مقابلہ ایک اچھی ٹیم سے تھا۔ میرے کھلاڑی مبارک کے مستحق ہیں‘

،تصویر کا ذریعہAP
نائجیریا کے تجربہ کار کھلاڑی جان اوبی میکیل سے ماہرین کو امید تھی کہ وہ اپنی ٹیم کے لیے اچھا کھیل پیش کریں گے۔
انگلینڈ کے فٹبالر ریو فرڈینینڈ کا کہنا تھا کہ ’جان اوبی میکیل ایک تجربہ کار کھلاڑی ہیں اور یورپ میں اعلیٰ درجے کی فٹبال کھیل چکے ہیں۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ نائجیریا کی جیت میں کردار ادا کریں۔‘
میچ میں بیشتر وقت کوئی بھی ٹیم گول کرنے کی پوزیشن میں نظر نہیں آئی۔ میچ کے آخری لمحات میں نائجیریا نے کئی ناکام حملے کیے جبکہ ایران کی ٹیم دفاع پر اتر آئی۔



