افغانستان: طالبان حملے میں 29 افراد ہلاک

،تصویر کا ذریعہReuters
افغانستان میں حکام کے مطابق طالبان کے مشرقی صوبے غزنی میں کیے جانے والے حملے میں 19 حملہ آوروں سمیت 29 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق مرنے والوں میں آٹھ سکیورٹی اہلکار اور دو عام شہری بھی شامل ہیں جبکہ حملے میں تمام 19 حملہ آور بھی ہلاک ہو گئے۔
مسلح افراد نے افغان پولیس اور انٹیلی جنس کے دفاتر کو ٹرک میں موجود دو بموں سے اڑا دیا۔
طالبان کی جانب سے کیے جانے والے اس حملے میں 160 سے زائد افراد زخمی ہوئے جبکہ اردگرد کی عمارات جس میں قصبے کا میوزیم شامل ہے کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
کابل میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار بلال سروری کا کہنا ہے کہ طالبان شدت پسندوں کا غزنی صوبے کے متعدد علاقوں پر کنٹرول ہے۔
غزنی میں مقامی ڈاکٹروں نے بی بی سی کو بتایا کہ زخمی ہونے والے کم سے کم 164 عام شہریوں کو متعدد ہسپتالوں میں پہنچایا گیا۔
اطلاعات کے مطابق زیادہ تر افرار عمارات کے شیشے ٹوٹنے سے زخمی ہوئے۔
ادھر طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے 19 حملہ آوروں نے حکومتی عمارات پر چھوٹے اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب بلال سروری کے مطابق چند حملہ آوروں کو انٹیلی جنس ایجنسی اور پولیس کمپاؤنڈ کے قریب ایک مقامی ریستوران تک رسائی مل گئی جو اس جگہ سے صرف 20 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
غزنی کے ڈپٹی پولیس چیف اسد اللہ انصافی کا کہنا ہے کہ تین گھنٹے تک جاری رہنے والی اس کارروائی سے پہلے حکومتی کمپاؤنڈ میں دو بم دھماکے ہوئے۔







