جلال آباد:خود کش حملہ، چار ہلاک متعدد زخمی

،تصویر کا ذریعہAFP
افغانستان میں حکام کا کہنا ہے کہ شمالی صوبے ننگرہار کے دارالحکومت جلال آباد میں ایک عمارت پر ہونے والے ایک خود کش حملے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں ایک طالب علم بھی شامل ہے۔
ان حملوں میں ایک درجن سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
صوبائي گورنر کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتا کہ کہ ’حملہ چار گھنٹے قبل شروع ہوا تھا جو ابھی بھی جاری ہے۔‘
ایک خود کش بمبار شہر کے قلب میں واقع ایک پولیس سٹیشن پر کار لے کر گھس گیا۔ یہ پولیس سٹیشن سرکاری دفاتر کے قریب ہے جن میں گورنر کا دفتر بھی شامل ہے۔
عینی شاہدین اور آٹو رکشہ ڈرائیوروں نے بی بی سی کو بتایا کہ افغانستان کی سرکاری ریڈیو ٹی وی کی عمارت میں ابھی آگ لگی ہوئی ہے۔
خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق پولیس نے نصف درجن حملہ آوروں کو دیکھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان میں سے بیشتر مارے جا چکے ہیں لیکن چونکہ پولیس ان کی تعداد کے بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہ سکتی اس لیے ابھی وہ عمارت میں جانے سے گریز کر رہے ہیں۔
روئٹرز کے مطابق پولیس کے ترجمان حضرت حسین مشرقی وال نے کہا: ’اب تک پانچ خود کش بمبار مارے جا چکے ہیں اور صفائی آپریشن جاری ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
ایک عینی شاہد محمد حبیب نے بی بی سی کو بتایا کہ ’دھماکے سے شہر کانپ گیا اور میں جاگ گیا میری کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے اس کے بعد صبح سے دھماکوں اور گولی باریوں کی آوازیں آ رہی ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل منگل کو ایک خود کش حملے میں 17 افغان شہری ہلاک 60 سے زیادہ زخمی ہو گۓ تھے۔ ان میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
کابل سے ہمارے نمائندے بلال سروری کا کہنا ہے افغانستان میں ہونے والے انتخابات میں سکیورٹی انتظامات کو سخت امتحان کا سامنا ہوگا۔
ان انتخابات میں سنہ 1990 کی دہائی کی خانہ جنگی کے جنگجو رہنما اور سابق گوریلا رہنما بھی میدان میں ہیں۔







