افغانستان: کنڑ میں چوکی پر حملہ، 20 افغان فوجی ہلاک

افغانستان کے صوبوں کنڑ اور نورستان کو طالبان کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنافغانستان کے صوبوں کنڑ اور نورستان کو طالبان کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔

افغانستان کے صوبے کنڑ کے پاکستانی سرحد سے متصل علاقے میں ایک چوکی پر طالبان کے حملے میں 20 فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

حملے میں کم سے کم ایک حملہ آور بھی ہلاک ہوا ہے۔ طالبان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہوں نے سات فوجیوں کو یرغمال بنایا ہے۔

<link type="page"><caption> ’کنڑ اور نورستان طالبان کے گڑھ ہیں‘</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/07/110714_athar_abbas_int_fz.shtml" platform="highweb"/></link>

افغانستان کی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ فوجی لاپتہ ہیں لیکن وہ لاپتہ فوجیوں کی تعداد چھ بتا رہی ہے۔

حملے کے بعد افغان صدر حامد کرزئی نے سری لنکا کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔

طالبان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہوں نے سات افغان فوجیوں کو یرغمال بنایا ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنطالبان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہوں نے سات افغان فوجیوں کو یرغمال بنایا ہے

افغانستان میں اگلے ماہ کے صدارتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ طالبان نے انتخابی مہم کو ناشنہ بنانے کی دھمکی دی رکھی ہے۔

کابل میں موجود بی بی سی كیرن ایلن نے بتایا کہ یہ حملہ گزشتہ ایک سال میں فوج پر طالبان کے سب سے مہلک حملوں میں سے ایک ہے۔

جنرل محمد ظہیر عظیمي نے بتایا کے اتوار کی صبح ہونے والے حملے میں حملے میں سینکڑوں شدت پسند‘ شامل تھے۔ حملہ كنڑ صوبے کے ضلع غازی آباد میں کیا گیا۔ جس کے بعد کیی گھنٹوں تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔

كنڑ کے گورنر شجاع الحق ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ممکن ہے کہ فوج میں طالبان کے حامیوں نے اس حملے میں ان کی معاونت کی ہو۔

افغانستان میں کچھ عرصے سے طالبان کے حملوں میں تیزی آئی ہے اور یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جو رواں برس کے آخر تک غیر ملکی افواج ملک سے نکل جائیں گی۔