راجیو قتل: چار مزید مجرموں کی رہائی کا عمل روکنے کا حکم

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارت کی سپریم کورٹ نے ملک کے سابق وزیرِ اعظم راجیو گاندھی کے قتل کے جرم میں مقید مزید چار مجرمان کی رہائی کا عمل روکنے کا حکم دیا ہے۔
سپریم کورٹ نے یہ حکم تمل ناڈو حکومت کی جانب سے سابق وزیراعظم راجیوگاندھی کے قتل کے جرم میں سزا پانے والے سات مجرموں کی رہائی کے فیصلے پر سیاسی کشمکش کے بعد جاری کیا۔
دہلی میں سپریم کورٹ نے جمعرات 27 فروری کو ان چار ملزمان کی رہائی کو روکنے کا حکم دیا۔ یہ چاروں مجرم راجیوگاندھی کو سنہ 1991 میں تامل خاتون خودکش بمبار کے حملے میں ہلاک کرنے کے جرم میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔
وزیرِ اعظم من موہن سنگھ نے تمل ناڈو حکومت کی طرف سے راجیو گاندھی کو ہلاک کرنے کے جرم میں قید سات مجرمان کو رہا کرنے کے فیصلے کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ انصاف کے اصولوں کے منافی ہے کیونکہ یہ قتل بھارت کی روح پر حملہ تھا۔‘
بھارت کی مرکزی حکومت نے گذشتہ جمعرات یعنی 20 فروری کو تمل ناڈو حکومت کی جانب سے سابق وزیراعظم راجیوگاندھی کے قتل کے جرم میں سزا پانے والے سات مجرموں کی رہائی کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلینج کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
بھارتی ریاست تمل ناڈو کی حکومت نے 19 فروری کو مرکزی حکومت سے ان سات مجرموں کو رہا کرنے کی سفارش کی تھی اور کہا تھا کہ اگر حکومت نے تین دن میں جواب نہ دیا تو وہ خود ہی انھیں رہا کر دے گی۔
عدالت عظمیٰ نے ابتدائی سماعت میں اس وقت کہا تھا کہ تمل ناڈو حکومت نے اس معاملے میں جو طریقہ اپنایا اس میں کئی مسائل ہیں۔
تمل ناڈو حکومت کے وکیل راکیش دویدی نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے صرف ان تین لوگوں کی رہائی روکنے کا حکم دیا ہے جن کی پھانسی کی سزا کو سپریم کورٹ نے عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
باقی چار ملزمان کے بارے میں راکیش دویدی نے کہا تھا کہ ریاستی حکومت ان کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے آزاد ہے۔
مرکزی حکومت کے وکیل اشوک بھان نے اس وقت امید ظاہر کی تھی کہ جب تک اس بارے میں سپریم کورٹ کوئی فیصلہ نہیں کرتی، تمل ناڈو کی حکومت ساتوں مجرموں کو رہا نہیں کرے گی۔
اب سپریم کورٹ نے باقی چار مجرموں کی رہائی کو بھی روک دیا ہے۔
خیال رہے کہ سابق بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی مئی 1991 میں تمل ناڈو میں ایک انتخابی ریلی کے دوران ایک خودکش حملے میں مارے گئے تھے۔
ان کے قتل کے مجرم ستھن، مرگن اور پیراريوالن سری لنکا کے تمل ٹائیگرز باغی گروپ کے رکن رہے ہیں۔
سری لنکا میں علیحدہ تمل وطن کے لیے جدوجہد کرنے والی اس شدت پسند تنظیم کو 2009 میں ختم کر دیا گیا تھا۔
راجیو گاندھی نے 1987 میں بطور بھارتی وزیرِ اعظم سری لنکا میں بھارتی امن فوجی بھیجے تھے۔ ان کے قتل کو اسی کا انتقام سمجھا جاتا ہے۔







