’ کتے کی موت سے بھی مجھے تکلیف ہوتی ہے‘

مجھے احساس جرم تب ہوگا جب میں نے کوئی غلط کام کیا ہو۔ مجھے مایوسی تب ہوگی جب میں نے چوری کی ہو اور وہ پکڑی گئی ہو۔ میرا کیس وہ نہیں ہے
،تصویر کا کیپشنمجھے احساس جرم تب ہوگا جب میں نے کوئی غلط کام کیا ہو۔ مجھے مایوسی تب ہوگی جب میں نے چوری کی ہو اور وہ پکڑی گئی ہو۔ میرا کیس وہ نہیں ہے

بھارتی ریاست گجرات میں 2002 کے فسادات میں مسلمانوں کی ہلاکت کے حوالے سے وزیر اعلی نریندر مودی نے کہا کہ انہیں تو کتے کی موت پر بھی دکھ ہوتا ہے۔

کتے کی مثال کے ان کے اس بیان پر کئی حلقوں کی طرف سے شدید رد عمل ہوا ہے۔

برطانیہ کی خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو دیےگئے ایک انٹرویو میں 2002 کے فسادات میں ہلاکتوں کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر مودی نے کہا کہ ’اگر میں کار چلا رہا ہوں اور میری کار کے نیچے ایک کتے کا پلا بھی دب جائے تو مجھے تکلیف ہو تی ہے۔ میں وزیراعلی ہوں۔اگر کہیں پر بھی کچھ برا ہوتا ہے تو تکلیف ہونا فطری ہے۔‘

اپنے بیان میں کتے سے موازنہ کرنے پر مودی کے بیان پر کانگریس اور کئی دیگر جماعتوں نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی نے مودی کے بیان کا دفاع کرتے ہوئے اس کی وضاحت کی ہے۔ پارٹی کی ترجمان نرملا سیتا رمن نے کہا ’مودی نے صرف یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ایک چھوٹے سے جاندار کی موت پر جب تکلیف ہوتی ہو تو پھر انسانوں کی ہلاکتوں پر کسے تکلیف نہیں ہوگی۔‘

کانگریس کے ترجمان سنجے جھا نے کہا کہ نریندر مودی کا بیان قابل مذمت ہے ’سینکڑوں انسانوں کی ہلاکت کا موازنہ ایک چھوٹے سے پلے کی موت سے کرنا تکلیف دہ ہے۔‘

انٹرویو کے دوران جب مودی سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے فسادات پر قابو پانے کے لیے جو اقدامات کیے تھے وہ کافی تھے تو انہوں نے کہا کہ ایک جمہوری معاشرے میں سبھی کی اپنی رائے ہوتی ہے اور سبھی کو تنقید کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔

’مجھے احساس جرم تب ہوگا جب میں نے کوئی غلط کام کیا ہو۔ مجھے مایوسی تب ہوگی جب میں نے چوری کی ہو اور وہ پکڑی گئی ہو۔ میرا کیس وہ نہیں ہے۔‘

مسٹر مودی نے کہا کہ وہ ایک’ہندو قوم پرست اور محب وطن‘ہیں اور ہندو قوم پرست ہونے میں کوئی برائی نہیں ہے۔

ان کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں آئے ہیں جب وہ آئندہ پارلیمانی انتخابات کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتخابی مہم کا آغاز کرنے والے ہیں۔

مودی نے کل ایک ٹویٹ میں غالباً پہلی بار مسلمانوں کو رمضان کی مبارکباد بھی دی تھی۔ ان کے بارے میں یہ عام تاثر یہ ہے کہ وہ انتخابات میں بی جے پی کے وزارت عظمی کے عہدے کے امیدوار ہوں گے۔

نریندر مودی کو سخت گیر ہندوتوا کا علمبردار سمجھا جاتا ہے۔

ان کے اس انٹرویو سے لگتا ہے کہ ہندتوا کا ایجنڈا بی جے پی کی انتخابی حکمت عملی کی بنیاد ہوگا اور ترقی اور خوشحالی کی باتوں کے ذریعے ان رائے دہندگان کواپنی طرف راغب کرنے کی کوشش کی جائے گی جو کانگریس اور دوسری جماعتوں سے مایوس ہوئے ہیں۔