نریندرمودی بی جے پی کی انتخابی مہم کے سربراہ مقرر

بھارت میں دائیں بازو کی قدامت پسند حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نےگجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کو اپنی انتخابی مہم کے لیے حمکت عملی کی تشکیل کے لیے بنائی گئی کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا ہے۔
مغربی ریاست گوا میں پارٹی کی دو روزہ قومی ایگزیکٹو میٹنگ کے اختتام پر بی جے پی کے صدر راجناتھ سنگھ نے اس کا اعلان کیا۔
پارٹی کے صدر نے ایک مختصر بیان میں کہا ’بھارتیہ جنتا پارٹی آئندہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات کو ایک چیلنچ مانتی ہے اور فتح کا عہد کر کے ہم آگے بڑھ رہے ہیں۔‘
’پوری انتخابی مہم کو مدنظر رکھتے ہوئے آج میں نے گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی کو انتخابی مہم کی کمیٹی کا چیئرمین مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے‘۔
گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی تین بار گجرات کے ریاستی انتخابات میں کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔ لیکن ان پر ریاست میں دو ہزار دو کے مسلم کُش فسادات میں ملوث ہونے کے الزام لگتے رہے ہیں۔
اس حوالے سے وہ ایک متنازع شخصیت ہیں اور بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ مودی ان فسادات کے ذمہ دار ہیں۔
لیکن گجرات میں کامیابیوں کے سبب بی جے پی کارکنان انہیں پارٹی کی جانب سے آئندہ عام انتخابات میں وزارت عظمیٰ کا امیدوار بنانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔
خود مودی بھی اس کوشش میں رہے ہیں اور یہ اعلان اس سمت میں ایک اور قدم ہے اور اب اس بات کے امکان مزید روشن ہوگئے ہیں کہ پارٹی انہیں انتخابات میں آئندہ وزیراعظم کے طور پر پیش کریگي۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بھارتی ذرائع ابلاغ میں گزشتہ چند روز سے اس سے متعلق زبردست بحث چھڑی ہے اور اس پہلو پر زیادہ زور تھا کہ اس معاملے میں بی جے پی کے کئی سینیئر رہنما نریندر مودی کے مخالف ہیں۔
گوا کی اس میٹنگ میں پارٹی کے سرکردہ رہنما لال کرشن اڈوانی، جسونت سنگھ اور یشونت سنہا جیسے کئی سینیئر رہنما شریک نہیں ہوئے جس کی وجہ سے اس طرح کی قیاس آرائیوں میں اضافہ ہوا۔
لیکن پارٹی کے صدر کے اعلان کے بعد کئی رہنماؤں نے ان قیاس آرائیوں کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ متفقہ طور پر کیا گيا ہے۔
نریندر مودی نے اتوار کو بھگوا رنگ کا لباس پہن رکھا تھا اور جب اس کا اعلان ہوا تو کارکنان کی بڑی تعداد نے انہیں مبارک باد پیش کی۔
کئی رہنماؤں نے ان کی حمایت میں بیانات بھی جاری کیے لیکن میڈیا کی جانب سے بار بار یہی سوال اٹھتا رہا کہ کیا مودی کا بطور وزارت عظمیٰ کے امیدوار کا اعلان کب کیا جائے گا۔
اکثر رہنماؤں نے اس سوال کو نظر انداز کر دیا اور کہا کہ وقت آنے پر اس کا بھی معلوم ہو جائے گا۔







