راجیو گاندھی کے قاتلوں کی رہائی کی سفارش

،تصویر کا ذریعہAFP
بھارتی ریاست تمل ناڈو کی حکومت نے مرکزی حکومت سے سابق وزیراعظم راجیوگاندھی کے قتل کے سات مجرموں کو رہا کرنے کی سفارش کی ہے۔
ان سات لوگوں میں ستھن، مرگن اور پیراریولن بھی شامل ہیں جن کی پھانسی کی سزا کو سپریم کورٹ نے منگل کو عمرقید میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔
ان تینوں کے علاوہ رہائی کی سفارش حاصل کرنے والوں میں مرگن کی اہلیہ نلنی شري ہرن، رابرٹ پائيس، جے كمار اور روچدرن شامل ہیں۔
تمل ناڈو کی وزیر اعلی جے للتا نے بدھ کی صبح کابینہ کے ہنگامی اجلاس میں سات ملزمان کی رہائی کی سفارش کرنے کا فیصلہ کیا۔
کابینہ کے فیصلے کے بارے میں جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ستھن، مرگن اور پیراریولن گزشتہ 23 سالوں سے جیل میں بند ہیں۔اسی امر کا خیال رکھتے ہوئے سي آر پي سي کی دفعہ 432 کے تحت ریاستی حکومت کو دیے گئے حقوق کے تحت حکومت نے ان تینوں کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹھیک اسی طرح ہم نے نلنی، رابرٹ پائيس، جے كمار اور روچدرن کو بھی رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ چونکہ ان تمام لوگوں کو ٹاڈا کی عدالت نے سزا سنائی تھی اس لیے سي آر پي سي کی دفعہ 435 کے تحت تمل ناڈو حکومت کے فیصلے پر مرکزی حکومت سے بات چیت کی جائے گی اور اس لیے مرکزی حکومت کی رائے جاننے کے لیے ریاستی حکومت نے اپنی سفارشات کو فوراً مرکز کے پاس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بیان کے مطابق اگر مرکزی حکومت نے تین دن کے اندر کوئی جواب نہیں بھیجا تو ریاستی حکومت کے اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ان تمام افراد کو رہا کر دیا جائے گا۔
نلنی کے سزائے موت کو پہلے ہی کانگریس کی سربراہ اور سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کی بیوہ سونیا گاندھی کی مداخلت کے بعد عمر قید میں تبدیل کیا جا چکا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
منگل کو سپریم کورٹ نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرتے وقت قصورواروں کی رحم کی درخواست پر فیصلے میں مرکزی حکومت کی طرف سے 11 سال کی تاخیر کا ذکر کیا تھا۔
سپریم کورٹ نے مرکز کی اس دلیل کو مسترد کر دیا تھا کہ مجرم ستھن، مرگن اور پیراریولن کی رحم کی درخواستوں پر فیصلے میں تاخیر سے انہیں کوئی تکلیف برداشت نہیں کرنی پڑی۔
خیال رہے کہ سابق بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی مئی 1991 میں تمل ناڈو میں ایک انتخابی ریلی کے دوران ایک خودکش حملے میں مارے گئے تھے۔
ان کے قتل کے مجرم ستھن، مرگن اور پیراريوالن سری لنکا کے تمل ٹائیگرز باغی گروپ کے رکن رہے ہیں۔
سری لنکا میں علیحدہ تمل وطن کے لیے جدوجہد کرنے والی اس شدت پسند تنظیم کو 2009 میں ختم کر دیا گیا۔
راجیو گاندھی نے 1987 میں بطور بھارتی وزیرِ اعظم سری لنکا میں بھارتی امن فوجی بھیجے تھے۔ ان کے قتل کو اسی کا انتقام سمجھا جاتا ہے۔







